اسلام آباد — پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام ایک بار پھر بحث کا مرکز ہے، تاہم پاکستان مسلم لیگ (ض) کے سربراہ اعجاز الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں—پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی—اندرونِ خانہ نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت پر متفق ہیں۔
اعجاز الحق کا ماننا ہے کہ یہ جماعتیں ٹیلی ویژن اسکرینوں پر ایک دوسرے کے خلاف جتنی بھی تلخ کلامی کر لیں، عملی سیاست میں ان کا ایجنڈا ایک ہی ہے۔ ان کے مطابق، یہ جماعتیں موجودہ سیاسی بندوبست کو چھیڑنے کے حق میں نہیں کیونکہ انتظامی تقسیم سے ان کا روایتی اثر و رسوخ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
"عوام کو بیانات کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے،” اعجاز الحق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "جب اختیارات کی تقسیم کی بات آتی ہے تو یہ جماعتیں مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ہو جاتی ہیں۔”
جنوبی پنجاب اور سندھ کے کچھ حصوں میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ دہائیوں پرانا ہے۔ حامیوں کا موقف ہے کہ چھوٹے صوبے بہتر طرزِ حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا واحد راستہ ہیں۔ دوسری جانب، اقتدار میں رہنے والی جماعتیں اکثر آئینی پیچیدگیوں یا نسلی تقسیم کے خطرے کا جواز پیش کر کے اس عمل کو التوا میں ڈال دیتی ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب اور سندھ کے وسیع انتخابی نقشوں پر اپنی گرفت کھونے کا تصور ہی محال ہے۔ پی ٹی آئی نے بھی، اپنے دورِ حکومت میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے، لیکن عملی طور پر وہ آئینی ترامیم کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے میں ناکام رہی۔
اعجاز الحق کا یہ تجزیہ ان لاکھوں ووٹرز کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جو وفاقی دارالحکومت کے مرکزیت پسندانہ رویے سے تنگ آ چکے ہیں۔ ان کا اشارہ واضح ہے کہ موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران انتظامی اصلاحات کی کوئی امید نہیں رکھی جانی چاہیے۔
سیاسی اشرافیہ کے اس غیر اعلانیہ اتحاد نے اصلاحات کے راستے بند کر رکھے ہیں، جبکہ نچلی سطح پر علاقائی محرومیوں کا لاوا پک رہا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا عوامی دباؤ کبھی ان بڑی جماعتوں کو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے پر مجبور کر سکے گا یا نہیں، یہ وہ سوال ہے جس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں۔
