ایشیا:
ال نینو کے مضبوط ہونے کے باعث ایشیا کے بڑے حصوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے، جس سے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ اہم فصلیں شدید درجہ حرارت سے متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق ال نینو کے اثرات کی وجہ سے بارشوں کے معمول کے پیٹرن میں خلل پڑ رہا ہے اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا میں ہیٹ ویوز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مون سون پر انحصار کرنے والے ممالک خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ بارشوں میں کمی یا تاخیر فصلوں کی کاشت اور نشوونما کو متاثر کر رہی ہے۔
کسانوں نے چاول، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلوں پر دباؤ کی شکایات رپورٹ کی ہیں۔ طویل خشک موسم اور شدید گرمی نے زمین میں نمی کم کر دی ہے، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ال نینو کی شدت برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کی کمی اور بخارات میں اضافہ پہلے ہی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
کچھ علاقوں میں حکومتوں کو ہنگامی اقدامات، پانی کے بہتر انتظام اور متبادل فصلوں کی طرف جانے کے لیے منصوبہ بندی کی سفارش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر پیداوار کم ہوئی تو خوراک کی قیمتوں میں اضافہ بھی ممکن ہے۔
اگرچہ ال نینو ایک قدرتی موسمی عمل ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی اس کی شدت اور غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہے، جس سے خطے میں زرعی منصوبہ بندی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
