ماہرینِ فلکیات کی جانب سے مشاہدہ کیے گئے ایک روشن دمدار ستارے نے سائنسدانوں کو شمسی نظام کے ابتدائی دور کے بارے میں اہم نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ تازہ تحقیق سے تقریباً 4.5 ارب سال پہلے موجود ماحول، مادّے اور ان حالات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل رہی ہے جن میں سورج اور سیاروں کی تشکیل ہوئی تھی۔
سائنسدانوں نے جدید زمینی رصدگاہوں اور طاقتور خلائی دوربینوں کی مدد سے دمدار ستارے کے برفیلے مرکز، اس کے گرد موجود گیس اور گرد و غبار کے بادل، جسے کوما کہا جاتا ہے، اور اس کی روشن دم کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ روشنی کے تجزیے سے محققین نے برفیلے مادّوں، نامیاتی مرکبات اور گرد کے ایسے ذرات کی شناخت کی جو شمسی نظام کی تشکیل کے وقت سے تقریباً محفوظ چلے آ رہے ہیں۔
ماہرین دمدار ستاروں کو "کائناتی وقت کے محفوظ خزانے " قرار دیتے ہیں کیونکہ ان میں موجود مادّہ شمسی نظام کی پیدائش کے زمانے سے تقریباً اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اجرام فلکی شمسی نظام کی ابتدائی تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس دمدار ستارے میں پانی کی برف، کاربن پر مشتمل نامیاتی مالیکیولز اور دیگر بخارات بننے والے مادّے موجود ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ماضی میں اسی قسم کے دمدار ستاروں نے زمین پر پانی اور زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہو سکتا ہے، اگرچہ اس نظریے پر مزید تحقیق جاری ہے۔
محققین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ سورج کی حرارت دمدار ستارے کی برف کو کس طرح بخارات میں تبدیل کرتی ہے، جس کے نتیجے میں گیس اور گرد خلا میں خارج ہو کر اس کی خوبصورت اور روشن دم بناتے ہیں۔ ان مشاہدات سے سائنسدان دمدار ستاروں کے طبعی اور کیمیائی عمل کو بہتر انداز میں سمجھ رہے ہیں۔
ماہرینِ فلکیات کے مطابق ہر نیا دمدار ستارہ شمسی نظام کی قدیم تاریخ کو جاننے کا ایک نادر موقع فراہم کرتا ہے۔ مستقبل کے خلائی مشنز اور مزید جدید مشاہدات سے توقع ہے کہ سورج، سیاروں اور ہمارے شمسی نظام کی تشکیل کے بارے میں مزید اہم راز سامنے آئیں گے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نئی دریافتیں انسان کو اس سوال کے جواب کے مزید قریب لے جا رہی ہیں کہ ہمارا شمسی نظام کیسے وجود میں آیا اور زمین پر زندگی کی بنیاد رکھنے والے عناصر کہاں سے آئے۔
