بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی نے آج میٹرک کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ‘اے-ون’ گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے تعلیمی ماہرین اور والدین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امتحانی بورڈ کے کنٹرولر کے مطابق، اس سال تقریباً 20 فیصد طلبہ نے اے-ون گریڈ حاصل کیا، جو گزشتہ برس کے 12 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ یہ رجحان سائنس اور جنرل گروپ، دونوں میں یکساں طور پر دیکھا گیا ہے، جہاں نجی اسکولوں کے طلبہ نے ٹاپ پوزیشنز پر قبضہ جما رکھا ہے۔
بورڈ حکام کا موقف ہے کہ یہ بہتری ڈیجیٹل اسسمنٹ ٹولز کے استعمال اور تدریسی طریقوں میں تبدیلی کا نتیجہ ہے۔ بورڈ کے چیئرمین نے پریس بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ، "ہم نے مارکنگ کے ایک ایسے نظام کی طرف قدم بڑھایا ہے جو طلبہ کی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پرکھتا ہے۔” ان کے بقول، یہ نتائج طلبہ کی محنت کا عکاس ہیں، نہ کہ معیار میں نرمی کا۔
دوسری جانب، تجربہ کار اساتذہ اور تعلیمی مبصرین اس "گریڈ انفلیشن” (گریڈز کی افراط) پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نصاب میں حالیہ تبدیلیوں نے جانچ کے معیار کو مبہم بنا دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق، یہ نتائج طلبہ کی تعلیمی قابلیت میں اضافے کے بجائے، جانچ کے متضاد معیارات کا شاخسانہ معلوم ہوتے ہیں۔
ان نتائج کا براہِ راست اثر داخلوں پر پڑے گا۔ انٹرمیڈیٹ کالجز میں داخلے کے لیے میرٹ لسٹیں اب پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہونے کا امکان ہے، جس سے وہ طلبہ شدید دباؤ کا شکار ہیں جن کے گریڈز اوسط درجے کے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نشستوں کی محدود تعداد اور ہائی اسکوررز کی بھرمار کے باعث، کئی طلبہ کا اپنے پسندیدہ کالج میں داخلہ حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
والدین کے لیے یہ صورتحال کسی دو دھاری تلوار سے کم نہیں۔ ایک جانب اے-ون گریڈ خوشی کا باعث ہے، تو دوسری جانب اتنی بڑی تعداد میں ہائی اسکوررز نے اس کامیابی کی اہمیت کو دھندلا دیا ہے۔ ایک سینئر استاد نے تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا، "جب ہر کوئی ہی ٹاپ کر رہا ہو، تو امتیاز کی قدر ختم ہو جاتی ہے۔”
بورڈ نے پیر سے پیپرز کی ری چیکنگ کے لیے درخواستیں وصول کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ نتائج میں تبدیلی کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ فی الحال بورڈ اپنے نتائج پر قائم ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہ 2026 کے نتائج کراچی کے تعلیمی معیار میں حقیقی بہتری ہیں یا محض ایک عددی تبدیلی؟
