پاکستان میں ایندھن کی سپلائی کا نظام تعطل کا شکار ہونے والا ہے۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنے منافع کے مارجن میں اضافے کے مطالبے کے حق میں 5 جولائی سے ملک بھر میں غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں ہزاروں پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فروخت مکمل طور پر بند ہو جائے گی۔
یہ اقدام پیٹرولیم ڈویژن اور ایسوسی ایشن کے درمیان جاری تعطل کے بعد سامنے آیا ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ مہنگائی اور آپریشنل اخراجات میں ہوشربا اضافے کے بعد موجودہ مارجن پر کاروبار کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسوسی ایشن مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کے منافع کے مارجن کو بڑھا کر 7 فیصد کیا جائے، جسے وہ اپنے کاروبار کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا، "ہم شوقیہ طور پر یہ قدم نہیں اٹھا رہے۔ بجلی کے بل، لیبر کی اجرت اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات گزشتہ ایک سال میں دگنے ہو چکے ہیں۔ موجودہ مارجن ہمارے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔”
دوسری جانب حکومت ان مطالبات کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ ڈیلرز کا مارجن بڑھانے سے ایندھن کی خوردہ قیمتوں میں براہِ راست اضافہ ہوگا، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔ حکومتی حکام اس معاملے پر محتاط ہیں تاکہ افراطِ زر کی شرح مزید نہ بڑھے۔
اس ہڑتال کے اعلان کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہڑتال سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک کا نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ ہڑتال سے قبل ہی بڑے شہروں میں پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں کیونکہ عوام ایندھن ذخیرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماضی میں بھی پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتالیں آخری لمحات میں حکومتی یقین دہانیوں یا وقتی طور پر مارجن میں ردوبدل کے بعد ختم ہوتی رہی ہیں۔ تاہم، اس بار فریقین کا رویہ غیر معمولی طور پر سخت دکھائی دیتا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جب تک منافع بڑھانے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا، سپلائی بحال نہیں کی جائے گی۔
اگر یہ تعطل جمعہ تک برقرار رہا تو اس کے اثرات صرف پیٹرول پمپس تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ چند ہی دنوں میں سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔
