وائیلا، جنوبی آسٹریلیا — ہر سال مئی کے اواخر میں جنوبی آسٹریلیا کے ساحلی شہر ‘وائیلا’ کے قریب واقع اسپینسر گلف کا پانی ہزاروں دیوہیکل کٹل فش کے رنگ برنگے رقص سے بھر جاتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا کٹل فش افزائشِ نسل کا اجتماع ہوتا ہے، لیکن اس سال سمندر کی تہہ غیر معمولی طور پر ویران ہے۔
ماہرینِ سمندری حیات اس صورتحال پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ عام طور پر جون سے اگست کے درمیان یہ علاقہ ہزاروں کٹل فش کے لیے ایک ‘پروٹیکٹڈ بریڈنگ گراؤنڈ’ بن جاتا ہے، مگر اب تک کی سروے رپورٹس کے مطابق یہاں موجود کٹل فش کی تعداد پچھلے سالوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
اس واقعے کا براہِ راست اثر مقامی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ وائیلا، جو کبھی ایک صنعتی شہر کے طور پر جانا جاتا تھا، اب اس ‘کٹل فش مائیگریشن’ کی بدولت عالمی سیاحت کا مرکز بن چکا ہے۔ مقامی ڈائیو آپریٹرز، جن کا سارا سال کا کاروبار ان تین مہینوں پر منحصر ہوتا ہے، اب بکنگ منسوخ ہونے کی شکایات کر رہے ہیں۔
ایک مقامی گائیڈ نے بتایا کہ "ہمیں کہیں کہیں کوئی ایک آدھ کٹل فش نظر آتی ہے، لیکن وہ ہنگامہ خیز اور پرشور افزائش کا عمل، جس کا ہم انتظار کرتے تھے، بالکل غائب ہے۔ پانی کا درجہ حرارت معمول سے تھوڑا زیادہ ہے، لیکن کیا یہی واحد وجہ ہے؟ یہ ابھی تک ایک معمہ ہے۔”
ماہرینِ حیاتیات کا کہنا ہے کہ کٹل فش کی زندگی کا دورانیہ صرف ایک سال ہوتا ہے۔ اگر بارہ ماہ قبل ان کے لاروا کے دوران حالات سازگار نہیں تھے، تو اس کا اثر موجودہ نسل پر پڑنا یقینی ہے۔ یہ مخلوق اپنی جلد کے رنگ بدلنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے، لیکن جب آبادی کی کثافت کم ہو جائے تو وہ ‘مقابلے کا ماحول’ پیدا نہیں ہو پاتا جو ان کی افزائش کے لیے ضروری ہے۔
سرکاری حکام نے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم ابتدائی رپورٹس میں سمندر کے بڑھتے ہوئے تیزابیت اور اسپینسر گلف میں بدلتے ہوئے آبی دھاروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس علاقے میں صنعتی سرگرمیوں کا دباؤ پہلے ہی موجود ہے، اور نمکیات کے توازن میں معمولی سا بگاڑ بھی ان کی افزائش گاہوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
وائیلا کے ساحل پر اب سیاح خالی پانیوں کو تک رہے ہیں۔ وہ اس قدرتی کرشمے کے منتظر ہیں جو شاید اس سال وقوع پذیر نہ ہو۔ اگر اگلے دو ہفتوں میں کٹل فش کی بڑی تعداد یہاں نہ پہنچی، تو اس سیزن کو مکمل طور پر ضائع سمجھا جائے گا۔ یہ ایک وقتی خلل ہے یا مقامی ماحولیاتی نظام کی مستقل تباہی؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں ہی مل سکے گا۔
