گوما، جمہوریہ کانگو — جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے تاریخ کے مہلک ترین پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ویکسینیشن مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی طبی حکام نے وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھتے ہوئے طبی عملے اور متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ترجیحی بنیادوں پر حفاظتی ٹیکے لگانا شروع کر دیے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق یہ وباء ماضی کی تمام لہروں سے زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ گنجان آباد تجارتی مراکز میں وائرس کی موجودگی نے حکام کے لیے رابطوں کا سراغ لگانا اور مریضوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
منصوبے کے سربراہ ڈاکٹر ژاں جیک میومبے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم وقت کے ساتھ دوڑ رہے ہیں۔ ویکسین ہمارا واحد دفاع ہے، مگر اسے وائرس سے پہلے متاثرہ افراد تک پہنچانا ضروری ہے۔”
اس مہم میں سب سے بڑی رکاوٹ جغرافیائی مشکلات اور سیکیورٹی صورتحال ہے۔ وباء سے متاثرہ کئی علاقے دور دراز ہیں یا وہاں مسلح تنازعات جاری ہیں، جس کے باعث ویکسین کی ترسیل کے لیے ہیلی کاپٹرز اور موٹر سائیکلوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ویکسین کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھنا پڑتا ہے، جس کے لیے کولڈ چین کا نظام برقرار رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔
موجودہ وباء نے 2018-2020 کے ایکواٹور صوبے کے بحران میں ہونے والی ہلاکتوں کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ویکسین کی افادیت ثابت شدہ ہے، تاہم ‘رنگ آف امیونٹی’ (متاثرین کے گرد حفاظتی حصار) بنانے کے لیے درکار خوراکوں کی قلت طبی عملے کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
وزارتِ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔ دیہی علاقوں میں پھیلی غلط فہمیوں اور افواہوں نے ماضی میں بھی امدادی سرگرمیوں کو متاثر کیا تھا، جس کے تدارک کے لیے اب مقامی قبائلی عمائدین کی مدد لی جا رہی ہے۔
حکومت کی توجہ فی الحال بڑے ٹرانزٹ کوریڈورز پر ہے تاکہ وائرس کو دوسرے شہروں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ مہم ناکام رہی تو وباء کے ملک گیر سطح پر پھیلنے کا خدشہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔
