خرطوم — سوڈان کے شمالی دریائی کناروں پر پھیلے لاکھوں کھجور کے درخت اب راکھ کا ڈھیر بنتے جا رہے ہیں۔ شدید خشک سالی اور بڑھتی ہوئی جنگلی آگ نے اس زرعی ورثے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جو نسلوں سے مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا تھا۔
شمالی اور دریائے نیل کے علاقوں میں کسان اب پھل کی پیداوار نہیں، بلکہ اپنی جلتی ہوئی زمینوں کا حساب کر رہے ہیں۔ شدید گرمی نے کھجور کے پتوں کو بارود کی طرح خشک کر دیا ہے۔ اب ایک چھوٹی سی چنگاری بھی ان باغات کو راکھ کرنے کے لیے کافی ہے، جنہیں جوان ہونے میں دہائیاں لگتی ہیں۔
مقامی باغبان احمد ادریس بتاتے ہیں، ’’ہم اپنا ورثہ کھو رہے ہیں۔ دریائے نیل کی سطح گر رہی ہے، زمین دھول بن چکی ہے، اور جب آگ لگتی ہے تو اسے بجھانے کے لیے کوئی جدید مشینری موجود نہیں۔ ہم بے بسی سے اپنے درختوں کو جلتے دیکھتے ہیں۔‘‘
پانی کی قلت اس تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ نیل کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث آبپاشی کی نہریں خشک پڑ چکی ہیں، جس نے درختوں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پیاسے اور کمزور درخت گرمی کی لہر میں آگ پکڑنے کے لیے سب سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں، جس سے باغات اب صرف زرعی زمین نہیں بلکہ آگ کے جال بن چکے ہیں۔
یہ بحران صرف کسانوں کی جیب تک محدود نہیں۔ سوڈان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، اور ان باغات کا خاتمہ ملکی غذائی تحفظ اور برآمدی آمدنی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کے شکار ملک میں، کھجور کی فصل کا تباہ ہونا کسانوں سے ان کا آخری سہارا بھی چھین رہا ہے۔
مقامی حکام کے پاس اس تباہی کو روکنے کے لیے کوئی مربوط منصوبہ موجود نہیں۔ دیہی علاقوں میں آگ بجھانے والا عملہ اور آلات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر خشک سالی سے نمٹنے کے لیے آبپاشی کے جدید نظام اور آگ سے بچاؤ کی حکمت عملی نہ اپنائی گئی، تو شمالی سوڈان کا یہ تاریخی منظر اگلے ایک عشرے میں ہمیشہ کے لیے بدل جائے گا۔
کسانوں کے لیے زندگی کا محور اب فصل کی کٹائی سے ہٹ کر مسلسل خوف میں بدل گیا ہے۔ ہر خشک اور گرم دن ان کے لیے ایک نیا امتحان ہے، جہاں تحفظ کی قیمت اب فصل کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
