دنیا بھر کے آسمان سے دلچسپی رکھنے والے افراد ایک شاندار فلکیاتی منظر دیکھنے کی تیاری کر رہے ہیں، کیونکہ شہابی بارش اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دوران رات کے آسمان پر متعدد ٹوٹتے ہوئے ستارے نہایت خوبصورت انداز میں گزرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔
سائنسدانوں کے مطابق شہابی بارش اس وقت ہوتی ہے جب زمین دمدار ستاروں یا بعض اوقات سیارچوں کے چھوڑے ہوئے گرد و غبار اور چھوٹے پتھریلے ذرات کے راستے سے گزرتی ہے۔ یہ ذرات انتہائی تیز رفتاری سے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں، جہاں ہوا سے رگڑ کے باعث شدید گرم ہو کر روشن لکیر کی صورت میں جل جاتے ہیں، جنہیں عام طور پر ٹوٹتے ہوئے ستارے کہا جاتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ شہابی بارش کے عروج کے دوران، اگر موسم صاف ہو اور روشنی کی آلودگی کم ہو، تو تاریک علاقوں میں موجود افراد ایک گھنٹے میں درجنوں شہابیے دیکھ سکتے ہیں۔ نظر آنے والے شہابیوں کی تعداد موسم، مقام اور آسمان کی صفائی پر منحصر ہوتی ہے۔
سائنسدان وضاحت کرتے ہیں کہ زیادہ تر شہابیے ریت کے ذرے یا چھوٹے کنکر جتنے ہوتے ہیں اور زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں مکمل طور پر جل جاتے ہیں، اس لیے یہ انسانوں کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں بنتے۔ صرف بڑے پتھریلے اجسام کبھی کبھار فضا سے گزر کر زمین تک پہنچتے ہیں، جنہیں شہابی پتھر کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ شہابی بارش کا بہترین نظارہ شہر کی روشنیوں سے دور کسی کھلے مقام پر آدھی رات کے بعد کیا جا سکتا ہے۔ آنکھوں کو اندھیرے سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تقریباً 20 سے 30 منٹ دینا چاہیے، جبکہ اس نظارے کے لیے دوربین یا ٹیلی اسکوپ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ شہابی بارش کو ننگی آنکھ سے ہی بہتر انداز میں دیکھا جا سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ شہابی بارشوں کا مطالعہ دمدار ستاروں کی ساخت، شمسی نظام کے ارتقا اور خلا میں گردش کرنے والے چھوٹے اجرام کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔
ماہرینِ فلکیات عوام کو اس خوبصورت قدرتی منظر سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شہابی بارش آسمان کے ان نادر اور دلکش مناظر میں سے ایک ہے جسے بغیر کسی خصوصی آلات کے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
