ایلون مسک کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت2025 تک کسی بھی ایک انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گی اور 2027 تک یہ پوری انسانی تہذیب کی مشترکہ صلاحیتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔
ٹیسلا اور xAI کے بانی نے یہ دعویٰ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک بحث کے دوران کیا۔ مسک طویل عرصے سے یہ کہتے آئے ہیں کہ ڈیجیٹل ذہانت بالآخر حیاتیاتی حدود کو عبور کر جائے گی، لیکن اب انہوں نے اس تبدیلی کے لیے وقت کی حد کو انتہائی مختصر کر دیا ہے۔
اگر مسک کا یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے، تو عالمی معیشت کو صنعتی انقلاب کے بعد سب سے بڑی تبدیلی کا سامنا ہوگا۔ اگر وہ غلط ہیں، تو یہ صرف ان ‘اسکیلنگ قوانین’ کا وقتی ٹھہراؤ ہو سکتا ہے جنہوں نے گزشتہ ایک دہائی میں ٹیکنالوجی کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔
مسک کا موجودہ تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ کمپیوٹنگ پاور اور توانائی کی دستیابی ہر چند ماہ بعد دوگنی ہوتی رہے گی۔ حال ہی میں سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "اے آئی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی لانے والی قوت ثابت ہوگی۔” ان کے مطابق، اب رکاوٹ کوڈنگ نہیں بلکہ وہ بھاری مقدار میں بجلی ہے جو ان ماڈلز کو چلانے والے ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار ہے۔
تاہم، اے آئی سیفٹی کے ماہرین اس دعوے پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ بڑے لینگویج ماڈلز صرف اعداد و شمار کے ماہر ہیں، ان میں حقیقی انسانی سوچ یا شعور کا فقدان ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف کمپیوٹنگ پاور کو دیکھنا انسانی شعور کی گہرائی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
ٹیکنالوجی کے تجزیہ کار مسک کی پیش گوئیوں کو احتیاط سے دیکھ رہے ہیں۔ سال 2020 میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ خود کار گاڑیاں ) ایک سال میں سڑکوں پر ہوں گی، جو اب تک پوری طرح حقیقت نہیں بن سکا۔ اب وہی جارحانہ انداز وہ ‘مصنوعی عمومی ذہانت’ کے معاملے میں اپنا رہے ہیں۔
2027 کی ڈیڈ لائن حقیقت ہے یا صرف ایک اور بلند بانگ دعویٰ، یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ٹیکنالوجی کی دنیا جس رفتار سے بدل رہی ہے، اس نے بڑے بڑے ناقدین کو بھی سوچ میں ڈال دیا ہے۔ فی الحال، دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ کیا ہارڈ ویئر کی صلاحیتیں مسک کے عزائم کا ساتھ دے پائیں گی۔
