سندھ محکمہ تعلیم نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ بحال کر دیا ہے۔ منگل کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے بعد اب اسکول اور کالجز پیر سے جمعہ تک معمول کے مطابق کھلیں گے۔
یہ فیصلہ توانائی کی بچت کے لیے نافذ کردہ اس عارضی پالیسی کا خاتمہ ہے جس کے تحت ہفتے میں صرف چار دن تعلیمی سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔ محکمہ تعلیم کے مطابق، نصاب کی بروقت تکمیل اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "تعلیمی نقصانات اب مزید برداشت نہیں کیے جا سکتے تھے۔ ہم نے توانائی کے بحران اور طلبہ کے مستقبل کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور تعلیمی تسلسل کو ترجیح دی گئی ہے۔”
دوسری جانب اساتذہ کی تنظیموں نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی موجودہ حالت اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اسکولوں کو ہفتے میں پانچ دن چلانا ایک چیلنج ہوگا۔ اساتذہ کے مطابق، انفراسٹرکچر کی کمی اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث اسکولوں کا ماحول طلبہ کے لیے مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
حکومتی نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے بھی اس حکم نامے کے پابند ہوں گے۔ محکمہ تعلیم نے تنبیہ کی ہے کہ کسی بھی ادارے کی جانب سے پانچ روزہ ورکنگ ہفتے کی خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے ایندھن اور توانائی کے بحران کے دوران لگائی گئی پابندیوں کے خاتمے کی ایک کڑی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ واپسی تعلیمی کارکردگی میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوتی ہے یا نہیں، کیونکہ اساتذہ اور والدین کی نظریں اب اسکولوں کے بنیادی سہولیات کے معیار پر مرکوز ہیں۔
