ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے کوآرڈینیٹس (متناسقات) کو حتمی شکل دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد طے پانے والا یہ معاہدہ دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک پر نیویگیشن کی حدود کو واضح کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
اس تنگ آبی گزرگاہ میں حدود کا ابہام برسوں سے ایرانی بحریہ اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتا رہا ہے۔ نئی حد بندیوں سے خلیج فارس میں داخل ہونے والے اور وہاں سے نکلنے والے بحری جہازوں کے لیے ایک واضح اور طے شدہ راستہ متعین ہو گیا ہے۔
اس معاہدے کی اہمیت عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے تناظر میں بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ روزانہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ متفقہ کوآرڈینیٹس کے تعین سے دونوں ممالک کا مقصد ان حادثاتی بحری تصادموں کے امکان کو کم کرنا ہے جنہوں نے ماضی میں عالمی منڈیوں کو ہلایا ہے۔
ایرانی حکام نے اس پیش رفت کو علاقائی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ بحری ٹریفک کے لیے ایک قابلِ پیشگوئی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ تکنیکی تفصیلات دونوں ممالک کی بحری افواج تک محدود ہیں، تاہم تہران کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ سمندری محاذ آرائی کے بجائے دو طرفہ تعاون کو ترجیح دے رہا ہے۔
عمان طویل عرصے سے ایران اور مغرب کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اس سرحدی معاہدے کے ذریعے مسقط نے خلیج کے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر لی ہے۔
یہ معاہدہ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں ایران اکثر عالمی پابندیوں یا سمندری تنازعات کے ردعمل میں ٹینکرز کو تحویل میں لیتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ان راستوں کو قانونی شکل دے کر ایران جہاں ایک طرف اس گزرگاہ پر اپنی گرفت کو مستحکم کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف خلیجی ممالک کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کا اشارہ بھی دے رہا ہے۔
آیا یہ معاہدہ آئندہ جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعات کو روک پائے گا، یہ سوال اب بھی بین الاقوامی انشورنس کمپنیوں اور شپنگ کنسورشیمز کے لیے اہم ہے۔ فی الحال، یہ پیش رفت اس خطے میں سفارتی کامیابی کی ایک نایاب مثال ہے جو اکثر اپنی غیر یقینی صورتحال کے لیے جانی جاتی ہے۔
