سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسے اس کا "بھاری خمیازہ” بھگتنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے ایک انتخابی ریلی کے دوران موجودہ امریکی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے اسے ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے عراق اور شام میں امریکی فوجی اڈوں کو ڈرون اور راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جس سے واشنگٹن کی عسکری حکمتِ عملی پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کا موقف واضح ہے۔ وہ موجودہ انتظامیہ کے ردعمل کو "کمزور اور غیر مؤثر” قرار دیتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے دورِ صدارت میں دشمن ممالک امریکی طاقت سے خوفزدہ تھے اور کسی کو ایسی کارروائی کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ ٹرمپ نے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "وہ جانتے تھے کہ سرخ لکیر عبور نہیں کرنی۔ اب انہیں ہمارا کوئی خوف نہیں رہا۔”
دوسری جانب پینٹاگون کے حکام انتہائی محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے ماخذ اور ذمہ داروں کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار تو کیا ہے، تاہم وہ ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے ایران کے خلاف سخت کارروائی اور خطے میں بڑی جنگ کے خطرے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
زمینی حقائق پیچیدہ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران پراکسی گروپوں کے ذریعے کارروائیاں کرتا ہے، جس سے براہِ راست انتقامی کارروائی کا فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایرانی سرزمین پر براہِ راست حملہ ایک بڑا جوا ہوگا، جو ایسی جنگ کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے جسے نہ تو واشنگٹن چاہتا ہے اور نہ ہی تہران۔
اس سب کے باوجود، وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوجیوں کی ہلاکت پر صرف سفارتی بیانات کافی نہیں، بلکہ ٹھوس کارروائی کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ کے لیے یہ سانحہ اپنی "طاقت کے ذریعے امن” کی پالیسی کو موجودہ انتظامیہ کے طریقہ کار کے مقابلے میں پیش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اگرچہ انہوں نے کسی خاص فوجی منصوبے کا اعلان نہیں کیا، لیکن وہ اپنے حامیوں کے لیے ایک جارحانہ بیانیہ ترتیب دے رہے ہیں۔ تہران کے لیے پیغام واضح ہے: سابق صدر کے نزدیک تحمل کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
