جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے بجلی کے بلوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج اور دارالحکومت کا رخ کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔
حافظ نعیم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت حکومت توانائی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ ملک کے متوسط اور نچلے طبقے کے لیے بجلی کے بل اب قوتِ خرید سے باہر ہو چکے ہیں، جس کے باعث عوامی غم و غصہ عروج پر ہے۔
جماعت اسلامی کی قیادت کا موقف ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط ماننے میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ اسے عوام کی چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔ حافظ نعیم نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ "عوام پس چکے ہیں، اب مزید بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں رہی۔” انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اشرافیہ اور غیر پیداواری اخراجات پر کٹ لگائے، نہ کہ عام آدمی کی جیب پر۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو برقرار رکھنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ مجبوری ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا ماننا ہے کہ اگر سبسڈی دی گئی تو معاشی استحکام کا عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے، اسی لیے فی الحال کسی بڑے ریلیف کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق حافظ نعیم کا یہ سخت مؤقف دراصل سیاسی میدان میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش ہے۔ وہ ایک ایسے وقت میں عوام کی آواز بن رہے ہیں جب دیگر بڑی اپوزیشن جماعتیں کسی نہ کسی مصلحت کا شکار ہیں۔ اگر جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کرتی ہے تو یہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عوامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکے گی یا آئی ایم ایف کی شرائط کو ترجیح دے گی؟ مارچ کی کال نے دارالحکومت کی فضا میں کشیدگی پیدا کر دی ہے اور آنے والے دن ملکی سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
