امریکی محکمہ توانائی نے مشی گن میں واقع ‘پلیسیڈس’ جوہری بجلی گھر کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ہولٹیک انٹرنیشنل کو 1.9 ارب ڈالر کا قرض دینے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ پلانٹ 2022 میں بند کر دیا گیا تھا، اور اب یہ امریکی تاریخ کا پہلا ایسا ری ایکٹر بننے جا رہا ہے جو مکمل بندش کے بعد دوبارہ تجارتی بنیادوں پر بجلی پیدا کرے گا۔
محکمہ توانائی کے ‘لون پروگرام آفس’ کی جانب سے فراہم کردہ یہ خطیر رقم 800 میگاواٹ کے اس پلانٹ کو 2025 کے آخر تک گرڈ میں شامل کرنے کے لیے استعمال ہوگی۔ بائیڈن انتظامیہ اس منصوبے کو اپنی ماحولیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہی ہے، جس کا مقصد موجودہ کاربن فری توانائی کے ذرائع کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
پلانٹ کی بحالی صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں، بلکہ یہ جوہری توانائی کی بدلتی ہوئی معاشیات کا عکاس ہے۔ مئی 2022 میں جب اس کے سابق مالک ‘انٹرگی’ نے اسے بند کیا تھا، تو اس کی بنیادی وجہ بھاری اخراجات اور طویل مدتی معاہدوں کا نہ ہونا تھا۔ ہولٹیک نے یہ پلانٹ اسے ختم کرنے کے لیے خریدا تھا، لیکن وفاقی حکومت کی دلچسپی نے اس کا رخ مکمل طور پر موڑ دیا۔
تاہم، ماہرینِ جوہری توانائی نے اس بحالی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں تک غیر فعال رہنے والے پلانٹ کے پرزہ جات کی تنزلی ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ ایک ایسے پلانٹ کو دوبارہ سرٹیفائی کروانا جو پہلے ہی سکریپ یارڈ جانے کے لیے تیار تھا، ایک پیچیدہ اور حساس عمل ہے۔
اب ہولٹیک کو نیوکلیئر ریگولیٹری کمیشن کے سخت حفاظتی معیارات سے گزرنا ہوگا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پلانٹ کے بنیادی سسٹمز اب بھی قابلِ استعمال ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں ایک ایسی سپلائی چین کو دوبارہ کھڑا کرنا ہے جسے پہلے ہی ختم کیا جا چکا ہے۔
اس سودے میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ بھی داؤ پر لگا ہے۔ اگرچہ یہ قرض سود سمیت واپس لیا جانا ہے، لیکن حکومت ایک نجی کمپنی کی اس صلاحیت پر بڑا جوا کھیل رہی ہے کہ وہ ایک بند پڑے صنعتی ڈھانچے کو دوبارہ زندہ کر سکے۔ اگر یہ منصوبہ حفاظتی معیارات پر پورا نہ اترا تو محکمہ توانائی کے لیے یہ ایک بڑی مالی ناکامی ثابت ہو سکتی ہے۔
صرف مشی گن ہی نہیں، بلکہ پوری جوہری صنعت اس تجربے کو غور سے دیکھ رہی ہے۔ اگر پلیسیڈس دوبارہ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو یہ ان تمام پرانے ری ایکٹرز کے لیے ایک ماڈل بن جائے گا جو بند ہونے کے قریب ہیں۔ اور اگر یہ ناکام ہوا، تو یہ توانائی کے شعبے میں حکومتی مداخلت کی حدود کے حوالے سے ایک تلخ سبق ثابت ہوگا۔
فی الحال، کورورٹ ٹاؤن شپ میں واقع یہ پلانٹ امریکی توانائی کے ایک مشکل دور کی یاد دلاتا ہے۔ یہ گرڈ کی بحالی کی علامت بنے گا یا ایک ناکام سرمایہ کاری، اس کا فیصلہ آنے والے مہینوں میں ہولٹیک کی کارکردگی کرے گی۔
