افغانستان سے امریکی انخلا کے تین سال بعد، طالبان اب واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو سرد خانے سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ کابل میں موجود ڈی فیکٹو حکومت اب عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے اور امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے سفارتی دروازے کھٹکھٹا رہی ہے۔
طالبان کے لیے اس تبدیلی کا محرک نظریاتی نہیں بلکہ معاشی ہے۔ افغانستان کی معیشت شدید بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پابندیاں اور بیرون ملک منجمد افغان مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے اثاثے ہیں۔ اگرچہ طالبان نے غیر ملکی افواج کو تو نکال دیا، مگر وہ اب تک ایسی بین الاقوامی ساکھ پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں جو ملکی کرنسی کو مستحکم کر سکے یا غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر سکے۔
یہ پیش رفت پہلے پسِ پردہ بات چیت تک محدود تھی، لیکن اب طالبان کے ترجمان کھل کر سفارتی تعلقات کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ علاقائی استحکام کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات ضروری ہیں۔ طالبان قیادت داعش-خراسان کے خلاف اپنی کارروائیوں کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ایک قابلِ اعتماد سیکیورٹی پارٹنر بن سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کا موقف بدستور سخت ہے۔ واشنگٹن کی شرط واضح ہے: سفارتی تسلیمیت کا راستہ خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان پابندیوں نے افغان خواتین کو عوامی زندگی سے عملی طور پر بے دخل کر رکھا ہے۔
ایک سابق امریکی انٹیلی جنس افسر، جو ان مذاکرات سے واقف ہیں، کہتے ہیں، "طالبان فنڈز اور قانونی حیثیت چاہتے ہیں، لیکن وہ ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جن کی وجہ سے وہ عالمی سطح پر تنہا ہوئے۔ یہ ایک ایسے گروہ کی جانب سے سودے بازی کی کوشش ہے جو یہ نہیں سمجھتا کہ واشنگٹن صرف سیکیورٹی گارنٹی نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جو اپنی نصف آبادی کو قیدی نہ بنائے۔”
طالبان کی اندرونی سیاست بھی اس کوشش میں رکاوٹ ہے۔ قندھار میں موجود سخت گیر دھڑے اب بھی مغربی اثر و رسوخ کے شدید مخالف ہیں۔ ان کے نزدیک امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ اس تحریک کی نظریاتی شکست ہے جس نے انہیں اقتدار تک پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ کابل میں سفارت کار اصلاحات کی باتیں کرتے ہیں، جبکہ جنوب میں موجود مذہبی قیادت ان پالیسیوں کو مزید سخت کر رہی ہے جو امریکہ کے ساتھ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ان مشکلات کے باوجود، امریکہ کے لیے اس جغرافیائی خلا کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ چین اور روس کی کابل میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بعد، بائیڈن انتظامیہ ایک مشکل مخمصے میں ہے۔ یا تو وہ تنہائی کی پالیسی جاری رکھیں، یا پھر ایک ایسی حکومت کے ساتھ محدود مذاکرات شروع کریں جس کا طرزِ حکمرانی مغربی اقدار سے متصادم ہے۔
فی الحال طالبان کی یہ خواہش واشنگٹن کی میز پر اسی خاموشی کا سامنا کر رہی ہے جو اگست 2021 سے قائم ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا طالبان امریکہ کو واپس چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اس تعلق کے لیے وہ قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں جو واشنگٹن مانگ رہا ہے۔
