نیویارک کا سب وے نظام، جسے کبھی جدید دنیا کا شاہکار سمجھا جاتا تھا، آج اپنی ہی تاریخ کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ شہر کی زیرِ زمین سرنگیں ایک ایسے دور میں تعمیر کی گئی تھیں جب موسمیاتی تبدیلیاں محض ایک مفروضہ تھیں، لیکن اب شدید بارشیں اور سیلابی ریلے اس نظام کے لیے بقا کا مسئلہ بن چکے ہیں۔
گذشتہ چند برسوں میں ہونے والی موسمیاتی تباہ کاریوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ سرنگیں پانی کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنی تھیں۔ 2021 میں سمندری طوفان ‘آئیڈا’ کے دوران نیویارک کی سب وے لائنیں کسی ندی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس ایک واقعے نے نہ صرف نظام کو مفلوج کیا بلکہ ایم ٹی اےکو 10 کروڑ ڈالر کا نقصان بھی پہنچایا۔ اس واقعے نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ پرانے ڈھانچے پر معمولی مرمت کے پیوند لگانا اب ناکافی ہے۔
انجینئرز اب ان اسٹیشنوں پر فلڈ گیٹس، اونچے داخلی راستے اور ہائی کیپیسٹی پمپ لگانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج کل ہونے والی شدید بارشوں کا حجم شہر کے نکاسی آب کے نظام سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ جب سڑکیں پانی سے بھر جاتی ہیں تو سب وے کی سرنگیں قدرتی طور پر پانی کے لیے ‘ڈرین’ کا کام کرنے لگتی ہیں۔
ایک ٹرانزٹ انجینئر کا کہنا ہے، "ہم ایک وکٹورین دور کے نظام کو ٹراپیکل موسم میں زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ جتنے چاہیں فلڈ گیٹس لگا لیں، لیکن اگر سڑکوں پر پانی کھڑا رہے گا تو کششِ ثقل ہمیشہ جیتے گی اور پانی نیچے ہی آئے گا۔”
اس کام پر اٹھنے والے اخراجات بھی پہاڑ جیسے ہیں۔ ایم ٹی اے نے اپنے موجودہ بجٹ میں اربوں ڈالر مختص کیے ہیں، لیکن مہنگائی اور تعمیراتی سامان کی قلت نے منصوبوں کی رفتار سست کر دی ہے۔ ہر ایک پروجیکٹ—چاہے وہ سب وے گریٹس کو سیل کرنا ہو یا بجلی کے سب اسٹیشنوں کو محفوظ بنانا—برسوں کا وقت مانگتا ہے۔ ادھر موسمیاتی ماڈلز اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ تعمیراتی ٹیمیں ان کے ساتھ قدم ملانے سے قاصر ہیں۔
مسافروں کے لیے یہ صورتحال روزمرہ کی پریشانی بن چکی ہے۔ اب سروس میں خلل صرف فنی خرابیوں کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ پانی کی نکاسی کے مسائل اس کی بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ ایک گھنٹے کی تیز بارش پورے شہر کے ٹریفک نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے، جس کے بعد حکام کو احتیاطی تدابیر کے طور پر ٹرینیں روکنی پڑتی ہیں۔
شہر کا انتظامی ڈھانچہ وقت خریدنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حساب کتاب تلخ ہے۔ مینہیٹن اور ایسٹ ریور کے نیچے سے گزرنے والی صدی پرانی سرنگیں اس پورے نظام کی شہ رگ ہیں۔ اگر پانی کی سطح ایک خاص حد سے تجاوز کر گئی تو شہر کا پہیہ جام ہو جائے گا۔
فی الحال ایم ٹی اے ٹیکنالوجی اور بہتر پیشن گوئی پر انحصار کر رہا ہے۔ اسٹیشنوں پر ایسے سینسرز لگائے گئے ہیں جو پانی کی سطح کی بروقت اطلاع دیتے ہیں تاکہ عملے کو پہلے سے تعینات کیا جا سکے۔ یہ حکمت عملی پانی کو اندر آنے سے روکنے کے بجائے، پانی آنے کے بعد ہونے والے نقصان کو کم کرنے تک محدود ہے۔
یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچتی۔ جیسے جیسے سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے اور طوفانوں کی شدت بڑھ رہی ہے، نیویارک کے سامنے سوال یہ نہیں کہ سب وے کو کیسے ٹھیک کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ صدی پرانا نظام اس نئی صدی کے موسمیاتی چیلنجوں کا مقابلہ کر بھی سکے گا یا نہیں۔
