اسلام آباد — پاکستان اور نیوزی لینڈ نے دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دیتے ہوئے تعلیم اور فنی مہارتوں کے شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد پاکستانی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا اور تکنیکی تعلیم کے شعبے میں جدید تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے اپنے تعلیمی نصاب اور عالمی صنعتوں کی تکنیکی ضروریات کے درمیان خلیج کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دوسری جانب، نیوزی لینڈ ووکیشنل ٹریننگ اور پائیدار تعلیمی فریم ورک میں ایک خاص مہارت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس شراکت داری میں اساتذہ کی تربیت، نصاب کی تشکیل، اور تکنیکی تبادلے کے پروگرام سرِفہرست ہوں گے۔
یہ اقدام محض تعلیمی تعاون تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے، حکومت ایسی راہیں تلاش کر رہی ہے جن سے نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھیں بلکہ بین الاقوامی منڈی میں بھی پاکستانی افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ ہو۔ نیوزی لینڈ کا "کمپیٹنسی بیسڈ ٹریننگ” ماڈل اس ضمن میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
وزارتِ وفاقی تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا، "ہم صرف ڈگریوں کے تبادلے تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے تکنیکی ادارے ان معیاروں کو اپنائیں جو نیوزی لینڈ نے گزشتہ ایک دہائی میں قائم کیے ہیں۔”
اس تعاون کے تحت زرعی اور ماحولیاتی سائنس کے شعبوں میں پاکستانی طلبا کے لیے اسکالرشپ کے مواقع بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جہاں نیوزی لینڈ کو عالمی سطح پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ شعبے پاکستان کے لیے اس وقت انتہائی اہم ہیں کیونکہ ملک موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی زرعی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔
اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو "برین ڈرین” کے مسئلے کو منظم طریقے سے حل کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تربیت کے یہ راستے باضابطہ ہو جائیں تو اس سے ہجرت کرنے والے افراد اور میزبان ملک، دونوں کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
اگرچہ اس تعاون کے مالیاتی پہلوؤں پر تاحال خاموشی ہے، لیکن دونوں ممالک نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ گروپ ہر سہ ماہی میں پیش رفت کا جائزہ لے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدامات بیوروکریسی کی نذر نہ ہوں۔
ابتدائی مرحلے میں، اس پروگرام کا اطلاق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے منتخب تکنیکی کالجوں میں رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔ تاہم، اصل کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ یہ عالمی معیار مقامی کلاس رومز میں کتنی تیزی اور مؤثر طریقے سے منتقل کیے جاتے ہیں۔
