انڈونیشیا کے صوبے جنوبی سلاویسی کے ساحل کے قریب بدھ کی صبح ایک مسافر بردار کشتی الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک اور 130 کے قریب مسافر لاپتہ ہو گئے۔ تیز ہواؤں اور بلند لہروں نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔
کشتی ’کے ایم لستاری‘ سیلایار جزیرے کے ساحل سے محض 300 میٹر کے فاصلے پر تھی کہ اچانک پانی میں ڈوبنے لگی۔ عینی شاہدین کے مطابق کشتی ایک طرف جھکی اور پھر مکمل طور پر الٹ گئی، جس سے درجنوں مسافر مکرسار کے ہنگامہ خیز پانیوں میں جا گرے۔
اب تک 64 افراد کو زندہ بچایا جا چکا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جو کشتی کے ملبے یا لائف رافٹس کو پکڑ کر تیر رہے تھے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ پانچ میٹر اونچی لہریں غوطہ خوروں کے لیے کشتی کے ڈھانچے تک پہنچنا ناممکن بنا رہی ہیں۔
قومی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ محمد سوگی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم وقت اور موسم دونوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوا کی شدت اور سمندر کی طغیانی ریسکیو ٹیموں کی پیش قدمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کشتی میں مسافروں کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکلیں اور دیگر سامان بھی موجود تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں کشتی کے نچلے حصے میں شگاف پڑنے کی اطلاعات ملی ہیں، تاہم حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کشتی پر گنجائش سے زیادہ بوجھ لادا گیا تھا۔ انڈونیشیا کے جزائر پر مشتمل جغرافیہ میں فیریز آمدورفت کا اہم ترین ذریعہ ہیں، جہاں اکثر حفاظتی معیارات کی خلاف ورزی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
بلکومبا بندرگاہ پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا ہجوم ہے، جو اپنے پیاروں کی خبر ملنے کے منتظر ہیں۔ سیلایار کے اسپتالوں میں بچائے گئے افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے، جن میں سے بیشتر صدمے اور ہائپوتھرمیا (شدید سردی) کا شکار ہیں۔
یہ رواں ہفتے میں انڈونیشیا میں پیش آنے والا دوسرا بڑا سمندری حادثہ ہے۔ اس سے قبل شمالی سماٹرا کی جھیل ٹوبا میں بھی ایک کشتی ڈوبنے سے درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مکرسار کے ساحل پر اندھیرا چھانے کے بعد ریسکیو آپریشن کو محدود کر دیا گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں کل صبح سورج نکلتے ہی دوبارہ مکمل طاقت کے ساتھ آپریشن شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، لیکن ساحل پر موجود خاندانوں کے لیے ہر گزرتا لمحہ ایک نئی اذیت بن چکا ہے۔
