انسٹ : برطانیہ نے اپنے خلائی عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شٹلینڈ میں واقع ‘سیکساورڈ’ اسپیس پورٹ کے لیے 30 ملین پاؤنڈ کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈنگ برطانیہ کی خلائی ایجنسی کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے تاکہ شمالی قطب کے مدار تک رسائی کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔
یہ سرمایہ کاری محض تعمیراتی کاموں تک محدود نہیں ہے۔ اس کا مقصد برطانیہ کو عالمی سیٹلائٹ مارکیٹ میں ایک اہم کھلاڑی بنانا ہے۔ اب تک، برطانوی کمپنیوں کو اپنے سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کے لیے امریکہ یا فرانسیسی گیانا پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن سیکساورڈ کا قیام اس انحصار کو ختم کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کا محل وقوع اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ شٹلینڈ کا شمالی سرا راکٹوں کو براہ راست قطبی مدار میں داخل کرنے کی سہولت دیتا ہے، جہاں سے زمین کا مشاہدہ کرنے والے سیٹلائٹس کو لانچ کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔ اس جغرافیائی فائدے کی بدولت راکٹوں کو گنجان آباد علاقوں کے اوپر سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جو حفاظتی اور تکنیکی لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔
اسپیس پورٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "یہ فنڈز ہمیں لانچنگ کے لیے درکار آخری مراحل مکمل کرنے میں مدد دیں گے۔ ہم صرف ایک پلیٹ فارم نہیں بنا رہے، بلکہ ایک مکمل سپلائی چین کو فعال کر رہے ہیں۔”
تاہم، یہ سفر اتنا آسان نہیں رہا۔ ماحولیاتی تحفظ کے ضوابط، قانونی چارہ جوئی اور جزیرے کے دور دراز علاقے میں بھاری مشینری کی نقل و حمل جیسے چیلنجز نے منصوبے کی رفتار کو سست رکھا۔ اب جبکہ حکومتی فنڈز کی منظوری مل چکی ہے، اصل امتحان ان لانچنگ پیڈز کو فعال کرنے اور سیفٹی لائسنس حاصل کرنے کا ہے، جس کے بغیر خلا میں پرواز ممکن نہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ 30 ملین پاؤنڈ خاص طور پر ‘لانچ پیڈ فریڈو’ اور ‘لانچ پیڈ الزبتھ’ کی تکمیل پر خرچ ہوں گے، جو درمیانے درجے کے راکٹوں کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
شٹلینڈ کے مقامی باشندوں کے لیے یہ منصوبہ معاشی استحکام کی ایک نئی امید ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا، تو یہ دور دراز جزیرے آنے والے برسوں میں یورپی ایرو اسپیس انڈسٹری کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر ہیں کہ سیکساورڈ اپنی ٹیم، حکومتی فنڈز اور تکنیکی مہارت کو بروئے کار لا کر کتنی جلدی اپنے پہلے خلائی مشن کو کامیابی سے لانچ کر پاتا ہے۔
