کراچی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے ایک طویل انتظار ختم ہونے کو ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے ایم-8 موٹر وے پر کام کی رفتار بڑھا دی ہے، جس کا بنیادی مقصد ملک کے تجارتی مرکز اور بلوچستان کے دارالحکومت کے درمیان فاصلوں کو سمیٹنا ہے۔
برسوں سے، این-25 ہائی وے، جسے اکثر "خونی شاہراہ” کہا جاتا ہے، ان دونوں شہروں کے درمیان واحد زمینی رابطہ ہے۔ تنگ سڑک، موڑ، اور بھاری ٹریفک کے باعث یہ راستہ حادثات کا گڑھ بن چکا ہے۔ اب ایم-8 ایکسپریس وے اس پر خطر سفر کو محفوظ اور تیز رفتار متبادل فراہم کرے گی۔
اس منصوبے کی تکمیل سے صرف مسافروں کو سہولت نہیں ملے گی، بلکہ معاشی پہلو بھی اہم ہے۔ کراچی بندرگاہ سے سامان لے جانے والے ٹرکوں کو فی الحال کوئٹہ پہنچنے میں تقریباً ایک دن لگتا ہے، جس کے دوران این-25 کی خراب حالت گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ایندھن کے ضیاع کا باعث بنتی ہے۔ ایکسپریس وے کے ذریعے سفر کا وقت آدھے سے بھی کم رہ جانے سے لاجسٹک اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی، جس کا براہِ راست اثر بلوچستان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
این ایچ اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ صرف سڑک نہیں، بلکہ صوبے کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ان کے مطابق، منصوبے کے سب سے مشکل پہاڑی حصوں کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اب توجہ ہوشاب اور خُضدار کے درمیان باقی ماندہ حصے پر مرکوز ہے۔ ٹھیکیداروں کو 2025 تک کام مکمل کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔
منصوبے کی تاریخ میں کئی بار تاخیر ہوئی، جس کی بڑی وجوہات خضدار کے کٹھن پہاڑی سلسلے اور سیکیورٹی خدشات تھے۔ تاہم، موجودہ پیش رفت سے حکام پرامید ہیں کہ اب مزید تعطل نہیں آئے گا۔
فی الحال، حکومت کی جانب سے اس ایکسپریس وے کے باضابطہ افتتاح کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں مسافر اب بھی روزانہ اسی پر خطر این-25 شاہراہ پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ جب یہ منصوبہ مکمل ہوگا، تو یہ نہ صرف وقت کی بچت کرے گا بلکہ بلوچستان کی دہائیوں پر محیط تنہائی کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
