سینٹ میری، آئلز آف سِلی — وائلڈ لائف حکام نے جزیرے کے مکینوں سے مدد مانگ لی ہے۔ مقصد ایک ایسی نایاب اور پراسرار مچھلی کا سراغ لگانا ہے جو گزشتہ چند دہائیوں میں تقریباً غائب ہو چکی ہے۔
آئلز آف سِلی وائلڈ لائف ٹرسٹ نے اس ہفتے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی آبی گزرگاہوں میں ‘یورپی اییل’ نظر آنے پر فوری اطلاع دیں۔ یہ سانپ نما مچھلی 1970 کی دہائی سے اب تک یورپ بھر میں اپنی تعداد کا 90 فیصد حصہ کھو چکی ہے، جس کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ان مچھلیوں کا لائف سائیکل کسی معمہ سے کم نہیں۔ یہ ہزاروں میل دور بحر اوقیانوس کے سارگاسو سمندر میں پیدا ہوتی ہیں اور وہاں سے بہتی ہوئی ساحلی جھیلوں اور ندیوں تک پہنچتی ہیں۔ یہ مچھلیاں دن کے وقت کیچڑ اور پانی کے اندر چھپی ہوئی دراڑوں میں خود کو چھپائے رکھتی ہیں، اس لیے انہیں ڈھونڈنا عام لوگوں تو کیا ماہرین کے لیے بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
وائلڈ لائف ٹرسٹ کے ایک ترجمان نے کہا، "ہم درحقیقت ایک بھوت کی تلاش میں ہیں۔ یہ مچھلیاں چھپنے میں ماہر ہیں، لیکن یہ ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ ہمیں صرف عوام کی مدد درکار ہے تاکہ ہم ان کے ٹھکانوں کا نقشہ بنا سکیں۔”
اییل کی آبادی میں کمی کی بڑی وجوہات میں قدرتی مسکن کا ختم ہونا، سمندری کرنٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے اتار چڑھاؤ، اور پیراسائٹس کا حملہ شامل ہے۔ چونکہ یہ نسل معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے ہر ایک رپورٹ محققین کے لیے یہ جاننے میں مددگار ثابت ہوگی کہ آیا مقامی آبی ذخائر ان کی بقا کے لیے سازگار ہیں یا نہیں۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ مچھلی کو پکڑنے یا اسے چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرسٹ کو صرف اس کی تصویر اور مقام کی درست معلومات درکار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مچھلیاں بہت حساس ہوتی ہیں؛ ان کے چھپنے کی جگہوں میں مداخلت انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
جزیرے کے رہائشیوں کے لیے یہ اپیل ان کے اپنے گھر کے پچھواڑے میں موجود نازک ایکو سسٹم کی ایک یاد دہانی ہے۔ اگر عوام کی جانب سے ملنے والا ڈیٹا یہ ثابت کر دیتا ہے کہ مقامی آبادی مستحکم ہو رہی ہے، تو ٹرسٹ جزائر کے آبی نظام کے انتظام میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔
اگر آپ کو کہیں یہ مچھلی نظر آئے، تو اسے اپنی جگہ پر ہی رہنے دیں اور وائلڈ لائف ٹرسٹ سے رابطہ کریں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی اطلاع اس ہجرت کے معمہ کو حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے جس نے دہائیوں سے سائنسدانوں کو الجھا رکھا ہے۔
