کراچی: شہرِ قائد میں اسٹریٹ کرائم کا عفریت بے قابو ہو گیا، کورنگی کے علاقے میں مسلح ملزمان نے گھر کے باہر کھڑے تین نوجوانوں کو اسلحے کے زور پر لوٹ لیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بدھ کے روز سامنے آئی جس نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تینوں نوجوان اپنے گھر کے گیٹ کے باہر موجود تھے کہ اچانک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم مسلح افراد وہاں پہنچے۔ پچھلی نشست پر بیٹھے ملزم نے پستول تان کر نوجوانوں کو روکا اور چند سیکنڈز کے اندر ان سے موبائل فونز اور نقدی چھین لی۔ واردات کے بعد ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
نوجوانوں نے مزاحمت کے بجائے خاموشی سے قیمتی سامان حوالے کرنا ہی بہتر سمجھا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم متاثرین کی ذہنی کیفیت شدید دباؤ کا شکار ہے۔
پولیس نے فوٹیج کی مدد سے مقدمہ تو درج کر لیا ہے، لیکن تاحال کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی گشت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی شرح رواں سال ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے برعکس، حقیقت یہ ہے کہ روزانہ درجنوں شہری اپنے موبائل فونز، نقدی اور گاڑیوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ اب گھر کی دہلیز بھی محفوظ نہیں رہی۔
علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا، "ہم اب اپنے گھر کے باہر کھڑے ہونے سے بھی ڈرتے ہیں۔ پولیس صرف واردات کے بعد پہنچتی ہے، روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آتا۔”
حکام کی جانب سے اکثر "ٹارگٹڈ آپریشنز” اور سیکیورٹی پلانز کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ حکمت عملی مسلح گروہوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ کورنگی کی اس واردات نے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
