اسلام آباد: جنوبی کوریا کی سرکاری توانائی کمپنی نے پاکستان میں تقریباً ایک ارب ڈالر کے ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق تاخیر اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کوریہ ساؤتھ ایسٹ پاور کمپنی (KOEN) نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اپنے سرمایہ کاری منصوبوں میں مبینہ رکاوٹوں اور غیر ضروری تاخیر کی شکایت کی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ بیوروکریٹک اور ریگولیٹری مسائل کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبے آگے نہیں بڑھ پا رہے۔
جنوبی کورین کمپنی کے مجوزہ منصوبے سوات میں واقع ہیں اور ان سے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم بجلی کے نرخوں کے تعین میں تاخیر اور ملک کے مستقبل کے پاور جنریشن پلان میں منصوبوں کی شمولیت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے پیش رفت کو متاثر کیا ہے۔
KOEN نے منصوبوں کے لیے ٹیرف کے حتمی تعین میں تاخیر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) 2025-35 میں منصوبوں کی شمولیت کے حوالے سے بھی وضاحت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق اگر پالیسی اور ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو اس سے منصوبوں پر عمل درآمد اور پاکستان میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان معیشت کو مضبوط بنانے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک بڑے جنوبی کورین سرمایہ کار کے منصوبوں میں رکاوٹ پاکستان کے سرمایہ کاری ماحول کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا سکتی ہے۔
پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری روابط بڑھانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ دونوں ممالک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بات چیت کر رہے ہیں، جبکہ جنوبی کورین کمپنیوں نے پاکستان کے توانائی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
حکومت پاکستان متعدد مواقع پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور شفاف، مستحکم اور سرمایہ کاری دوست ماحول یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کر چکی ہے۔ تازہ شکایت کے بعد متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے کہ وہ زیر التوا معاملات کو جلد حل کریں تاکہ ایک ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری مزید تاخیر کا شکار نہ ہو۔
