فرانس اور اسپین کے جنگلات میں کئی روز سے لگی خوفناک آگ کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ شدید بارش اور درجہ حرارت میں نمایاں کمی کے بعد فائر فائٹرز نے صورتحال پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے۔
موسم کی اس تبدیلی نے ان خطوں کے لیے بڑی ریلیف فراہم کی ہے جو گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل بھڑکتی آگ کی لپیٹ میں تھے۔ اسپین میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں اب "شعلے نہ ہونے کے برابر” ہیں۔
فرانس کے جنوب مغربی علاقے گیرونڈ میں رہائشیوں کے لیے یہ خبر ایک بڑی راحت بن کر آئی ہے۔ ہزاروں افراد جو دھویں اور آگ کے خوف سے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے، اب واپس لوٹ کر نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ فوری خطرہ ٹل چکا ہے، لیکن جھلسی ہوئی زمین اس موسم کی شدت کی گواہی دے رہی ہے۔
ایک مقامی فائر کمانڈر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "بارش ہمارا بہترین حلیف ثابت ہوئی۔ اس نے ہمارے عملے کو ان حصوں کو محفوظ بنانے کا موقع دیا جہاں پہنچنا پہلے ممکن نہیں تھا۔”
کامیابی کے باوجود حکام نے ابھی الرٹ ختم نہیں کیا ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ خشک ہواؤں کا ایک جھونکا زمین میں دبی چنگاریوں کو دوبارہ ہوا دے سکتا ہے۔ مٹی میں نمی کا تناسب اب بھی انتہائی کم ہے، جس کا مطلب ہے کہ جنگل کا فرش اب بھی کسی بھی وقت آگ پکڑنے کے لیے تیار ہے۔
اس سال کا آگ کا سیزن غیر معمولی طور پر تباہ کن رہا ہے۔ گرمی کی لہروں اور طویل خشک سالی نے آگ کو تیزی سے پھیلنے کا موقع دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ہیکٹر رقبے پر پھیلے جنگلات راکھ ہو گئے اور کئی دیہات خالی کرانا پڑے۔
فی الحال توجہ آگ بجھانے کے بجائے اسے مکمل طور پر ٹھنڈا کرنے پر مرکوز ہے۔ فرنٹ لائن پر موجود فائر فائٹرز کی جگہ اب وہ ٹیمیں لے رہی ہیں جو ان مقامات کی نگرانی کر رہی ہیں جہاں سے دوبارہ آگ بھڑکنے کا امکان ہے۔
جیسے جیسے دھواں چھٹ رہا ہے، پیرس اور میڈرڈ میں حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ موسم میں آتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر جنگلات کے انتظام اور آگ بجھانے کی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں۔
