لاہور — باغبانپورہ کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 تک پہنچ گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبہ ہٹانے کا کام مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد تمام لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ یہ سانحہ، جس نے ایک پرسکون رہائشی علاقے کو راتوں رات ماتم کدہ بنا دیا، اب شہر میں عمارتوں کی خستہ حالی اور ناقص حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
امدادی کارکنوں نے تقریباً 15 گھنٹے تک کنکریٹ اور سریا کے ڈھیر میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جدوجہد کی۔ گنجان آباد علاقے میں واقع یہ پرانی عمارت صبح سویرے اچانک زمین بوس ہو گئی، جس وقت زیادہ تر مکین گہری نیند میں تھے۔ ملبے تلے دب جانے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، آواز اتنی زوردار تھی جیسے کوئی دھماکہ ہوا ہو۔ ایک پڑوسی نے بتایا کہ جب وہ گلی میں پہنچے تو مکان کا نام و نشان تک نہیں تھا، ہر طرف گرد و غبار اور چیخ و پکار تھی۔
ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ ملبے سے مجموعی طور پر 12 افراد کو نکالا گیا، جن میں سے صرف دو ہی زندہ بچ سکے۔ زخمیوں کو میو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت تاحال تشویشناک ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے عمارت کی تعمیراتی حالت اور حفاظتی معیارات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مکان انتہائی خستہ حال تھا اور مالک نے حال ہی میں غیر قانونی طور پر مرمت کی کوشش کی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں کئی ایسے مکانات ہیں جو دہائیوں پرانے اور خطرناک ہیں، لیکن میونسپل حکام نے کبھی حفاظتی کوڈز پر عملدرآمد کروانے کی زحمت نہیں کی۔
ریسکیو آپریشن ختم ہونے کے بعد اب علاقے میں سوگ کا سماں ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی توجہ اب تدفین کے مراحل پر ہے، جبکہ شہر کے باسی اس بات پر سراپا سوال ہیں کہ ایک رہائشی علاقے میں اس قدر بڑی غفلت کیسے برتی گئی۔
ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات مکمل کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن باغبانپورہ کے رہائشیوں کے لیے یہ سانحہ اس تلخ حقیقت کا عکاس ہے کہ لاہور کی پرانی آبادیوں کے بوسیدہ مکانات اب موت کا پھندہ بن چکے ہیں۔
