گوگل نے اپنی نئی پکسل واچ 5 کی مارکیٹنگ کے لیے جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے براہِ راست اپنے سب سے بڑے حریف، ایپل واچ، کو ہدف بنایا ہے۔ منگل کے روز جاری ہونے والے ایک 30 سیکنڈ کے اشتہار میں کمپنی نے فیچرز گنوانے کے بجائے ایپل کی ڈیزائننگ پر سخت تنقید کی ہے۔
اشتہار میں ایک دیدہ زیب گول گھڑی کو دکھایا گیا ہے جو اچانک ایک مربع (اسکوائر) شکل میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس دوران پسِ پردہ چلنے والی آواز طنزیہ انداز میں پوچھتی ہے: "آخر اب بھی سب ایک ڈبے میں کیوں قید ہیں؟”
گوگل کا اشارہ واضح ہے۔ ایپل 2015 میں اپنی پہلی اسمارٹ واچ کے اجرا سے لے کر اب تک اسی مربع ڈیزائن پر قائم ہے۔ اس کے برعکس گوگل اپنی پکسل واچ کے ساتھ روایتی گھڑیوں کی گول شکل کو بطور ‘فیشن’ پیش کر رہا ہے۔ گوگل کا مقصد ان صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے جو ایپل واچ کے ‘کمپیوٹر نما’ ڈیزائن کو اب فرسودہ یا بے ذوق سمجھنے لگے ہیں۔
یہ پہلی بار نہیں کہ گوگل نے ایپل کو نشانہ بنایا ہو۔ اس سے قبل بھی ‘سوئچ ٹو پکسل’ مہمات کے ذریعے آئی فون صارفین کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اس بار ہتھیار خود ہارڈویئر کا ڈیزائن ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ ایک پرخطر فیصلہ ہے۔ ایپل کا مربع ڈیزائن ایک اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے، جس کے لیے مارکیٹ میں پٹے اور لوازمات کی ایک وسیع رینج موجود ہے۔ گوگل کی گول اسکرین ڈیزائن کے لحاظ سے تو خوبصورت ہے، مگر سافٹ ویئر اور ایپس کے استعمال میں اسے اکثر چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ گول کناروں پر ٹیکسٹ کا درست نظر نہ آنا اور ایپس کے انٹرفیس کو ترتیب دینا ڈویلپرز کے لیے ہمیشہ ایک دردِ سر رہا ہے۔
گوگل نے پکسل واچ 5 میں بیزل کو مزید پتلا اور ہپٹک کراؤن کو بہتر بنا کر اس خامی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ اگر وہ سافٹ ویئر کو گول اسکرین پر بہتر انداز میں پیش کر سکے، تو وہ ایپل کے صارفین کو اپنے فیشن کے بیانیے سے قائل کر سکتی ہے۔
یہ مقابلہ اب صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، بلکہ جمالیات کا بھی ہے۔ کیا صارفین ایپل کے مستحکم مربع انٹرفیس کو ترجیح دیں گے یا گوگل کی ‘گول’ پیشکش کی جانب مائل ہوں گے؟ اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا، فی الحال گوگل کا داؤ یہ ہے کہ اگر لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کلائی پر ایک "ڈبہ” پہنے ہوئے ہیں، تو شاید وہ متبادل کی تلاش شروع کر دیں۔
