محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ موسمیاتی نظام کے تحت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، جس سے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے 48 گھنٹے انتہائی اہم ہیں۔
یہ محض معمول کی بارش نہیں ہے۔ محکمہ فلڈ فورس کاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شمالی علاقوں میں موجود کم دباؤ کا مرکز اب جنوب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شہری مراکز اور زرعی علاقوں کو بیک وقت شدید بارشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ "بارش کی شدت موجودہ نکاسی آب کے نظام کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر پانی کی سطح اسی رفتار سے بڑھی تو کل شام تک نالے بپھر سکتے ہیں۔”
دریاؤں اور ندیوں کے قریب آباد آبادیوں میں پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر کے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کی وجہ سے بہت سے لوگ ان وارننگز کو سنجیدگی سے لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
شدید موسمیاتی تغیرات اب ایک معمول بن چکے ہیں۔ گزشتہ برسوں کی مون سون بارشوں نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کیا اور کھڑی فصلیں تباہ کر دیں۔ طویل مدتی حفاظتی اقدامات کے فقدان نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
حکومت نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا متعلقہ ادارے کسی بڑے نقصان سے پہلے موثر رابطہ کاری کر پائیں گے یا نہیں۔
آسمان پر بادلوں کا بسیرا ہے اور زمینی حقائق تلخ ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے آئندہ چند گھنٹے فیصلہ کن ہیں کہ وہ اپنے گھروں کو محفوظ رکھ پائیں گے یا انہیں ایک بار پھر بحالی کے طویل عمل سے گزرنا پڑے گا۔
