بابر اعظم نے حالیہ شکست کے بعد کسی لگی لپٹی کے بغیر حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے۔ قومی ٹیم کے سابق کپتان نے تسلیم کیا کہ پچ اور موسم کے حالات ان کی ٹیم کے حق میں تھے، لیکن کھلاڑی ان سازگار لمحات کو فتح میں بدلنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں بابر اعظم کا لہجہ مایوسی سے بھرپور تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو معلوم تھا کہ پچ سے گیند بازوں کو مدد مل رہی ہے، مگر بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ "ہمیں معلوم تھا کہ صورتحال ہمارے لیے سازگار ہے، مگر ہم اسے درست طریقے سے استعمال نہیں کر سکے،” بابر نے مختصر الفاظ میں اپنی ٹیم کی حکمت عملی کی ناکامی کو بیان کیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پاکستان نے اہم مواقع گنوائے ہوں۔ حالیہ کچھ عرصے سے ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری مڈل آرڈر کی غیر مستقل مزاجی اور دباؤ میں درست فیصلے نہ کر پانا رہی ہے۔ جب گیند پرانی ہوتی ہے اور رنز بنانے کا موقع ہوتا ہے، تب پاکستانی بلے باز وکٹیں گنوا کر پوری ٹیم کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیم میں تکنیکی مہارت سے زیادہ ذہنی پختگی کا فقدان ہے۔ بابر اعظم کا یہ اعتراف ظاہر کرتا ہے کہ ڈریسنگ روم میں مسائل کی نشاندہی تو ہو رہی ہے، مگر میدان میں ان کا حل نظر نہیں آ رہا۔ کوچنگ اسٹاف کے دعووں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کے درمیان ایک وسیع خلیج موجود ہے جو اب نتائج پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
آنے والے میچوں میں پاکستان کے پاس غلطیوں کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر ٹیم نے اپنی حکمت عملی کو حالات کے مطابق نہ ڈھالا تو یہ شکستیں صرف ایک "برا دن” نہیں بلکہ ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر لیں گی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کپتان کا یہ اعتراف ٹیم میں کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، یا یہ صرف ایک اور ہار کے بعد کی جانے والی روایتی وضاحت بن کر رہ جائے گا؟
