لاہور: صوبائی دارالحکومت میں ذہنی معذور لڑکی سے زیادتی کے شرمناک واقعے میں ملوث اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کی گرفتاری کے بعد محکمہ پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 78 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پولیس کی صفوں میں موجود مجرمانہ غفلت اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
ملزم اے ایس آئی پر الزام ہے کہ اس نے رواں ہفتے تھانے کی حدود میں ذہنی توازن درست نہ رکھنے والی لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق، متاثرہ لڑکی مزاحمت کرنے کی سکت نہیں رکھتی تھی، تاہم وہاں موجود کچھ شہریوں کے بروقت مداخلت کرنے پر معاملہ منظر عام پر آیا۔ واقعے کے بعد عوامی غم و غصے میں شدت دیکھتے ہوئے سی سی پی او لاہور نے انکوائری کا حکم دیا، جس کا دائرہ کار مرکزی ملزم سے نکل کر پورے تھانے کے عملے تک پھیل گیا۔
معطل کیے گئے اہلکاروں میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے افسران شامل ہیں۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ یہ اجتماعی معطلی "مجرمانہ غفلت” کے زمرے میں آتی ہے۔ تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ جو اہلکار واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود تھے یا جن کی ذمہ داری اس سیکٹر کی نگرانی کرنا تھی، وہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ، "ہم صرف اس ایک شخص کو نہیں دیکھ رہے جس نے یہ گھنونا فعل کیا، بلکہ ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 78 لوگ کہاں تھے؟ یا تو انہوں نے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھیں یا پھر وہ اتنے نااہل تھے کہ انہیں اپنی چھت کے نیچے ہونے والے جرم کا علم ہی نہ ہوا۔”
ملزم اے ایس آئی اس وقت پولیس حراست میں ہے اور اس پر پاکستان پینل کوڈ کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فرانزک ٹیموں نے تھانے سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
لاہور پولیس کے لیے یہ واقعہ ساکھ کا بحران بن چکا ہے۔ محکمہ طویل عرصے سے کمزور طبقات کے کیسز میں غیر ذمہ دارانہ رویے کے الزامات کی زد میں ہے۔ 78 اہلکاروں کو ایک ساتھ معطل کر کے پولیس قیادت نے جوابدہی کا تاثر دینے کی کوشش کی ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکنان اسے محض ایک عارضی انتظامی اقدام قرار دے رہے ہیں۔
حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ معطلی کافی نہیں، ملزمان کے خلاف شفاف ٹرائل کیا جائے۔ انہیں خدشہ ہے کہ عوامی دباؤ کم ہوتے ہی ان اہلکاروں کو دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔ اس وقت متعلقہ تھانے کا نظام متبادل عملے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جبکہ پولیس ہائی کمانڈ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث یا پردہ پوشی کرنے والے کسی بھی اہلکار کو ملازمت پر برقرار نہیں رکھا جائے گا۔
