آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں منگل کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی ریلی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
حملہ اس وقت ہوا جب ریلی شہر کے مرکزی علاقے سے گزر رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی اور کارکن اپنی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بکھر گئے۔ جاں بحق ہونے والا کارکن موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ آوروں نے قریب سے نشانہ لیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، تاہم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ان کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا۔
کوٹلی بھر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اہم چوراہوں اور پارٹی دفاتر کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے تاکہ سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
انتخابی سرگرمیوں کے دوران تشدد کا یہ واقعہ خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کا عکاس ہے۔ مقامی انتظامیہ اب اس دباؤ میں ہے کہ پولنگ کے عمل سے قبل امن و امان کی صورتحال کو کیسے کنٹرول کیا جائے، کیونکہ اس طرح کے واقعات انتخابی عمل کی شفافیت اور ساکھ پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
