چین کے مشرقی صوبوں میں ٹائیفون ’باوی‘ کے پیشِ نظر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ یہ طوفان تیزی سے ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث حکام نے ساحلی علاقوں سے لاکھوں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے ملک کے چار سطحی وارننگ سسٹم میں سب سے اونچا ’ریڈ الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ طوفان کے راستے میں آنے والی تمام بندرگاہوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ کشتی رانی اور فیری سروسز کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
لیاؤننگ صوبے اور شمالی کوریا کی سرحد کے قریب واقع شہروں دالیان اور ڈانڈونگ کے مکینوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ سیلابی ریلے ہیں۔ تیز ہواؤں کے باعث سمندر میں اٹھنے والی بلند لہریں نشیبی علاقوں کو ڈبو سکتی ہیں، جبکہ موسلا دھار بارشیں شہری نکاسی آب کے نظام کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔
دالیان میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ایک اہلکار نے بتایا کہ ”ہم نے خطرے کی زد میں آنے والے تمام افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ہے۔ ہماری اولین ترجیح یہ ہے کہ طوفان کے مرکز کے گزرنے تک کوئی بھی شخص ساحلی پٹی کے قریب نہ جائے۔“
چین کے لیے یہ مون سون سیزن پہلے ہی تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ موسم گرما کے دوران دریائے یانگسی کے طاس میں ریکارڈ بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اگرچہ چین میں ٹائیفون سے نمٹنے کا بنیادی ڈھانچہ کافی مضبوط ہے، تاہم ’باوی‘ کی شدت اور وسعت انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
شمال مشرقی علاقوں میں زرعی شعبہ سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ کسان اپنی فصلوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں اور شدید بارشوں سے فصلوں کو پہنچنے والا نقصان آنے والے ہفتوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ طوفان کی شدت تب ہی کم ہوگی جب یہ خشکی کے اندر گہرائی تک داخل ہو جائے گا۔ آئندہ 24 گھنٹے چین کے اس اہم صنعتی کوریڈور کے لیے فیصلہ کن ہوں گے، جس کا انحصار مکمل طور پر طوفان کے راستے اور اس سے ہونے والے نقصانات پر ہے۔
