ایک 70 سالہ بزرگ اب پولیس کی حفاظت میں ہیں، جنہیں ان کے اپنے بیٹوں نے مبینہ طور پر کئی روز تک بستر سے زنجیروں سے باندھ کر رکھا۔ بزرگ کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی جائیداد میں بیٹیوں کو ان کا قانونی حصہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ واقعہ ایک دیہی علاقے میں پیش آیا۔ پولیس کو پڑوسیوں کی جانب سے اطلاع ملی، جس کے بعد حکام نے چھاپہ مار کر بزرگ کو ایک کمرے سے بازیاب کرایا۔ انہیں وہاں قید کر کے بنیادی نقل و حرکت سے محروم رکھا گیا تھا اور بیٹیوں سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس تنازع کی جڑ میں وہ فرسودہ سماجی روایت ہے جس کے تحت جائیداد کو مردوں تک محدود رکھنے کے لیے خواتین کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جب والد نے جائیداد کے کاغذات بیٹیوں کے نام منتقل کرنے کا قانونی عمل شروع کیا، تو بیٹوں نے اسے خاندانی روایت سے غداری قرار دیتے ہوئے تشدد کا راستہ اپنایا۔
ریسکیو آپریشن میں شامل ایک پولیس انسپکٹر نے بتایا، "وہ بطور باپ اپنا فرض نبھانا چاہتے تھے۔ بیٹوں نے اسے مالی نقصان سمجھا اور اپنے والد کو قانونی حق استعمال کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔”
ملزمان نے بزرگ کا موبائل فون بھی چھین لیا تھا تاکہ وہ اپنی بیٹیوں یا وکیل سے رابطہ نہ کر سکیں۔ کئی روز تک انہیں قید میں رکھا گیا اور مسلسل دھمکیاں دی گئیں تاکہ وہ اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہو جائیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق، قانون واضح طور پر بیٹیوں کو آبائی جائیداد میں حصہ دیتا ہے، لیکن سماجی رکاوٹیں اب بھی ایک بڑی دیوار ہیں۔ کئی خاندان آج بھی ‘مقامی روایات’ کا سہارا لے کر ان افراد کو سزا دیتے ہیں جو اس فرسودہ نظام کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بزرگ اس وقت مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی بیٹیاں، جنہیں پہلے جائیداد کی منتقلی کے عمل سے بے خبر رکھا گیا تھا، اب اپنے بھائیوں کے خلاف قانونی کارروائی میں والد کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہیں۔
فی الحال، بیٹے پولیس کی حراست میں ہیں اور ان پر اغوا اور غیر قانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، جائیداد کا تنازع ابھی باقی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عدالتیں اس معاملے میں قانون کی بالادستی قائم رکھ پاتی ہیں یا روایتی دباؤ اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔
