ایٹمی ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے کا خواب ایک ایسی حقیقت سے ٹکرا رہا ہے جو توقعات سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمپنیاں بند پڑے ایٹمی بجلی گھروں کو دوبارہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، مگر یہ عمل محض ایک سوئچ دبانے جتنا آسان نہیں۔
ایک ری ایکٹر جو دہائیوں سے بند پڑا ہو، وہ صرف ایک "بند مشین” نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پرزوں میں پیدا ہونے والی توڑ پھوڑ ایک سنگین چیلنج بن جاتی ہے۔ برسوں سے ٹھنڈے پڑے پائپ سسٹم اپنی لچک کھو بیٹھتے ہیں اور دھاتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ کنٹرول سسٹمز کا ہے؛ 90 کی دہائی کی اینالاگ ٹیکنالوجی پر مبنی یہ سسٹمز آج کی جدید ضروریات کے سامنے متروک ہو چکے ہیں۔ ان کی تبدیلی کا مطلب پورے پاور پلانٹ کے اعصابی نظام کی سرجری ہے، جس کے لیے ایٹمی ریگولیٹری کمیشنز سے نئے سرے سے تصدیق درکار ہوتی ہے۔
مالیاتی پہلو بھی اس کام میں بڑی رکاوٹ ہے۔ جب کوئی پلانٹ بند ہوتا ہے، تو وہاں کام کرنے والا ماہر عملہ بکھر جاتا ہے۔ دوبارہ بحالی کے لیے نئے سرے سے تربیت یافتہ انجینئرز اور آپریٹرز کی ٹیم کھڑی کرنا ایک مہنگا اور طویل عمل ہے، جس کی قیمت اکثر نئے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کی تعمیر کے برابر یا اس سے بھی زیادہ نکلتی ہے۔ سرمایہ کار جو اسے سستا راستہ سمجھ کر آئے تھے، اب دیکھ رہے ہیں کہ مرمت کا خرچ بجٹ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
حفاظتی ضوابط کی سختی بھی ایک اہم موڑ ہے۔ آج کے حفاظتی معیارات 20 سال پہلے کے دور سے کہیں زیادہ سخت ہیں۔ جو پلانٹ 2005 میں محفوظ سمجھا جاتا تھا، وہ آج کے جدید "اسٹریس ٹیسٹ” میں ناکام ہو سکتا ہے۔ ان معیارات پر پورا اترنے کے لیے اکثر وہ بنیادی ڈھانچہ بھی اکھاڑنا پڑتا ہے جسے بچانے کی امید میں کمپنی نے اسے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔
توانائی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے پرانی ٹرانسمیشن لائنیں اور پرمٹس ایک کشش رکھتے ہیں، لیکن بند پڑے پلانٹس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کو دوبارہ زندہ کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کاغذوں پر دکھائی دیتا ہے۔ ایٹمی توانائی کی صنعت اس تلخ حقیقت کو سمجھ رہی ہے کہ ری ایکٹرز کے معاملے میں، ماضی اکثر مستقبل کا شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔
