گردوں کے دائمی امراض اب محض بڑھتی عمر کا مسئلہ نہیں رہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق، ذیابیطس کی عالمی وبا گردوں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بن کر ابھری ہے، جس سے نوجوانوں میں بھی گردے فیل ہونے کے کیسز میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
تحقیق سے ایک واضح اور خطرناک تعلق سامنے آیا ہے: جیسے جیسے میٹابولک صحت گر رہی ہے، گردے ریکارڈ رفتار سے جواب دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر اب ڈائیلاسز کے لیے 70 سال سے زائد عمر کے مریضوں کے بجائے 40 سال کے نوجوانوں کو دیکھ رہے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر آریس تھورن کہتے ہیں، "مریضوں کی پروفائل میں ایک بڑا شفٹ آیا ہے۔ گردوں کے امراض کو عمر رسیدگی سے جوڑنے کا روایتی نظریہ اب تیزی سے ذیابیطس کے باعث پیدا ہونے والے بحران میں بدل چکا ہے۔ یہ احتیاطی تدابیر کی مکمل ناکامی ہے۔”
یہ اعداد و شمار صحت کے نظام کے لیے ایک سنگین انتباہ ہیں۔ غیر کنٹرول شدہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں گردے فیل ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے جو اس مرض کا شکار نہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں ڈائیلاسز سینٹرز پر دباؤ میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے نمٹنے میں ہسپتال پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔
بہت سے مریضوں کے لیے مسئلہ بروقت اسکریننگ نہ ہونا ہے۔ جب مریض سوجن یا شدید تھکاوٹ جیسی علامات کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے، تو گردوں کے نیفرونز کو پہنچنے والا نقصان اکثر ناقابلِ تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔ تحقیق تجویز کرتی ہے کہ اگر پری-ڈائیبیٹک مرحلے میں ہی گلوکوز کی نگرانی اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جائے تو 40 فیصد کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق میں شامل رینل اسپیشلسٹ سارہ جینکنز کا کہنا ہے، "یہ صرف دوائیوں کا معاملہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے ہائی بلڈ شوگر کو معمول سمجھ لیا ہے۔ ہم ذیابیطس کا علاج تو کرتے ہیں، لیکن گردوں کو اس وقت تک نظر انداز کرتے ہیں جب تک وہ ناکارہ نہیں ہو جاتے۔”
اس کا معاشی اثر بھی اتنا ہی گہرا ہے۔ ڈائیلاسز کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور افرادی قوت کی عمر رسیدگی کے پیشِ نظر، صحت کے بجٹ پر پڑنے والا بوجھ آئندہ دہائی میں ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ سکتا ہے۔
عام مریض کے لیے پیغام سادہ اور واضح ہے: بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا اب کوئی آپشن نہیں، بلکہ زندگی بچانے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر جلد تشخیص اور جارحانہ مداخلت کی طرف توجہ نہ دی گئی، تو ایک پوری نسل ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی گردوں کے دائمی مرض میں مبتلا ہو سکتی ہے۔
