واشنگٹن اسٹیٹ کے اوکاناگن-ویناچی نیشنل فاریسٹ میں لگنے والی تباہ کن آگ ‘پائینیر فائر’ کے سلسلے میں 36 سالہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ آگ اب تک 38 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے کو راکھ کر چکی ہے۔
رینٹن، واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے ڈگلس نائٹ کو منگل کے روز حراست میں لیا گیا۔ وفاقی تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ نائٹ نے 8 جون کو جھیل چیلان کے کنارے آگ جلائی تھی۔ یہ چھوٹی سی چنگاری دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوفناک آگ میں بدل گئی، جس کے باعث نہ صرف مقامی آبادی کو انخلا کرنا پڑا بلکہ موسم گرما کے دوران وسیع تر جنگلاتی علاقے سیاحوں کے لیے بند رہے۔
امریکی فاریسٹ سروس کی کئی ماہ پر محیط تحقیقات کے بعد یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ حکام نے ثبوتوں کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم عدالتی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ تفتیش کا مرکز ممنوعہ علاقے میں بغیر نگرانی کے چھوڑا گیا کیمپ فائر تھا۔
چیلان کاؤنٹی کے رہائشیوں کے لیے یہ خبر ایک عجیب کیفیت لے کر آئی ہے۔ مقامی کاروبار، جو سیاحت پر انحصار کرتے ہیں، اس آگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے۔ وادی میں پھیلنے والے دھوئیں اور حکومتی پابندیوں نے سیاحوں کا رخ موڑ دیا، جس سے مقامی معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔
ایک مقامی کاروباری شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم ہفتوں تک دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھتے رہے اور سوچتے رہے کہ کیا ہم اس سیزن میں زندہ بچ پائیں گے؟ اب یہ جان کر کہ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ کسی انسان کی غلطی تھی، ان جھلسی ہوئی پہاڑیوں کو دیکھنا اور بھی تکلیف دہ ہو گیا ہے۔”
وفاقی استغاثہ نے نائٹ پر جنگلات میں آگ لگانے کا الزام عائد کیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر اسے پانچ سال قید اور بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو آگ بجھانے پر اٹھنے والے لاکھوں ڈالر کے اخراجات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوگا۔
پائینیر فائر ریاست کی حالیہ تاریخ کی سب سے ضدی آگ میں سے ایک رہی ہے۔ دشوار گزار اور عمودی پہاڑی علاقوں کے باعث زمینی عملے کے لیے آگ تک پہنچنا ناممکن تھا، جس کے لیے حکام کو فضائی ذرائع اور طویل فاصلوں پر مشتمل کنٹینمنٹ لائنز کا سہارا لینا پڑا۔
اگرچہ اب یہ آگ مقامی آبادی کے لیے براہ راست خطرہ نہیں رہی، تاہم نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ نائٹ کو اس ہفتے سیٹل کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
جھیل چیلان کے ارد گرد پھیلا ہوا یہ سیاہ منظر ایک انسان کی غفلت کی بھاری قیمت کی یاد دلاتا ہے۔ جنگل کی بحالی میں برسوں لگیں گے، اور اس آگ کے مالی نقصانات کا بوجھ ٹیکس دہندگان کو طویل عرصے تک اٹھانا پڑے گا۔
