نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں گلیشیئرز پگھلنے سے بننے والی جھیلوں کے پھٹنے کے خدشے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے نے پہاڑی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، آئندہ چند روز میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے شمالی علاقوں میں موجود درجنوں حساس جھیلوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب آباد آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔
"صورتحال تشویشناک ہے۔ ہم نے گزشتہ برسوں کے تجربات سے سیکھا ہے کہ گلیشیئرز کا پانی کسی بھی وقت بڑی تباہی لا سکتا ہے،” ایک مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "ہم نے حساس علاقوں میں وارننگ سائرنز بجانا شروع کر دیے ہیں، لیکن پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلی ہوئی آبادی تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔”
حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر امدادی ٹیمیں اور مشینری حساس مقامات پر تعینات کر دی ہے۔ سڑکوں کی بندش کے خدشے کے پیشِ نظر ہیلی کاپٹرز کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں امدادی کارروائیوں میں تاخیر نہ ہو۔
تاہم، بنیادی مسئلہ انفراسٹرکچر کی کمزوری ہے۔ حالیہ برسوں میں آنے والے سیلابوں نے پہلے ہی مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بہت سے دیہاتوں میں آج بھی لوگ روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں، جہاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر موجود نگران پانی کے بہاؤ میں تبدیلی دیکھ کر نیچے آبادی کو خبردار کرتے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ یہ الرٹ محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں درپیش مستقل خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر درجہ حرارت اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو صرف رواں موسمِ گرما میں کئی بار ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
شمالی علاقوں کے مکینوں کے لیے یہ دن انتہائی کرب ناک ہیں۔ ان کے گھروں کے اوپر موجود گلیشیئرز اب صرف خوبصورتی کی علامت نہیں، بلکہ ایک ایسا وقت بم بن چکے ہیں جس کا پھٹنا وقت کی بات ہے۔
