دوحہ — لیونل میسی اپنے کیریئر کے سب سے اہم پڑاؤ پر کھڑے ہیں۔ اتوار کو لوسیل اسٹیڈیم میں ارجنٹائن کا مقابلہ اسپین سے ہوگا، جہاں میسی اپنی زندگی کا آخری ورلڈ کپ فائنل کھیلتے ہوئے ٹرافی کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کریں گے۔
میسی کے لیے یہ محض ایک میچ نہیں، بلکہ دو دہائیوں پر محیط اس سفر کا اختتام ہے جس میں ان کی جھولی میں سب کچھ آیا مگر عالمی کپ کی ٹرافی اب بھی ادھوری ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم، جو سعودی عرب کے ہاتھوں ابتدائی شکست کے بعد لڑکھڑائی تھی، اب ایک منظم اور جارحانہ قوت بن کر ابھری ہے۔ کوچ لیونل اسکالونی کی حکمت عملی نے اسے صرف ‘میسی کی ٹیم’ نہیں، بلکہ ایک متوازن یونٹ بنا دیا ہے جہاں جولین الواریز جیسے کھلاڑیوں نے ذمہ داری سنبھالی ہے۔
دوسری جانب اسپین کی ٹیم ہے۔ لوئیس ڈی لا فوینتے کے زیرِ نگرانی، اسپین نے اپنی روایتی ‘ٹیکی ٹاکا’ فٹ بال کو جدید اور تیز رفتار انداز میں ڈھالا ہے۔ ان کا مڈفیلڈ، جس کی کمان روڈری کے ہاتھ میں ہے، گیند کو اپنے قبضے میں رکھنے اور مخالف ٹیم پر دباؤ ڈالنے کا ماہر ہے۔ ارجنٹائن کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسپین کے اسی مڈفیلڈ کو توڑنا ہوگا تاکہ میسی کو گول کے قریب مواقع مل سکیں۔
اسپین کیمپ کے ایک قریبی ذریعے نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم یہاں میسی کی کہانی کا حصہ بننے نہیں آئے، ہم اپنی تاریخ لکھنے آئے ہیں۔”
میچ کا فیصلہ مڈفیلڈ کی جنگ سے ہوگا۔ اگر ارجنٹائن کے اینزو فرنینڈس اور الیکسس میک ایلسٹر اسپین کے دفاعی حصار کو توڑنے میں ناکام رہے، تو میسی کو گیند حاصل کرنے کے لیے بہت پیچھے آنا پڑے گا، جو حریف ٹیم کے حق میں ہوگا۔
یہ مقابلہ صرف ایک ٹرافی کا نہیں، بلکہ دو مختلف فلسفوں کا ہے۔ میسی کے لیے یہ اپنے عظیم کیریئر کا آخری باب ہے، تو اسپین کے لیے یہ ایک دہائی کے جمود کو توڑ کر دوبارہ عالمی فٹ بال پر چھا جانے کا سنہری موقع ہے۔
اتوار کی رات جب ریفری کی آخری سیٹی بجے گی، تو اس وقت تاریخ کے اوراق لکھے جا چکے ہوں گے۔ میدان میں موجود کھلاڑی جانتے ہیں کہ جذبات اپنی جگہ، مگر جیت صرف اسی کو ملے گی جو نوے منٹ تک اپنی اعصابی گرفت مضبوط رکھے گا۔
