اسلام آباد: پاکستان نے تیل کی ممکنہ رسد میں رکاوٹوں کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب کے ساتھ توانائی تعاون کو مزید گہرا کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ حکومت تزویراتی پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے منصوبے پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان نے سعودی عرب سے خام تیل کی ترسیل کے لیے ینبع بندرگاہ کے راستے سہولت مانگی ہے، تاکہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ بحران کی صورت میں متبادل سپلائی لائن برقرار رکھی جا سکے۔
یہ معاملہ محض سفارتی گفتگو تک محدود نہیں۔ 4 مارچ 2026 کو پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی سے ملاقات میں واضح طور پر ینبع کے ذریعے متبادل خام تیل روٹ کی درخواست کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ پاکستان نے یہ بھی بتایا کہ ایک خام تیل بردار جہاز اس راستے سے روانگی کے لیے مختص کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک کی تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش کافی محدود سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ رپورٹس میں وزیرِ پیٹرولیم کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان کے پاس بھارت جیسے تزویراتی ذخائر موجود نہیں، اور ملک کے پاس اس وقت صرف تقریباً پانچ سے سات دن کا تیل ذخیرہ ہے۔ دوسری جانب کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ مجموعی کمرشل اور آپریشنل اسٹاک ملا کر ملک کے پاس لگ بھگ 24 سے 28 دن کی سپلائی موجود رہتی ہے، مگر یہ کسی باقاعدہ اسٹریٹجک ریزرو کا متبادل نہیں۔
اب حکومت اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپریل 2026 کے آخر میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد نے 90 روزہ تزویراتی پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے امکان پر کام شروع کر دیا ہے، اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کو سفارشات تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ پاکستان کی توانائی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ ملک اب تک مختصر مدتی درآمدی انتظام اور محدود کمرشل ذخائر پر انحصار کرتا آیا ہے۔
اس تمام عجلت کے پسِ منظر میں آبنائے ہرمز کی وہی پرانی مگر انتہائی حساس حقیقت موجود ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے اپنی اپریل 2026 آئل مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ علاقائی تنازع کے دوران ہرمز سے گزرنے والی تیل ترسیل میں شدید کمی آئی، جس نے عالمی منڈی میں غیر معمولی دباؤ پیدا کیا۔ ایسے ماحول میں ینبع کا راستہ پاکستان کے لیے مکمل حل تو نہیں، مگر کم از کم ایک ایسا متبادل ضرور بن سکتا ہے جو بحران کے وقت فوری سہارا دے۔
اس معاملے کا ایک وسیع تر سفارتی پہلو بھی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب حالیہ برسوں میں توانائی، معدنیات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے بعد جاری مشترکہ بیانات سے بھی یہی تاثر ملا کہ دونوں ملک اب اپنے تعلقات کو زیادہ اسٹریٹجک انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے تیل کا معاملہ اب صرف درآمدی بندوبست نہیں رہا، بلکہ دوطرفہ شراکت داری کے ایک بڑے فریم ورک کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
تاہم اصل امتحان ابھی باقی ہے۔ تزویراتی تیل ذخائر قائم کرنا آسان یا سستا کام نہیں۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر اسٹوریج انفراسٹرکچر، مالی وسائل، پالیسی فیصلے اور مستقل انتظامی صلاحیت درکار ہوگی۔ سعودی عرب کے ساتھ تعاون پاکستان کو فوری ریلیف دے سکتا ہے، مگر دیرپا توانائی تحفظ اسی وقت ممکن ہوگا جب حکومت اس ہنگامی ردِعمل کو ایک مستقل قومی پالیسی میں بدلنے میں کامیاب ہو۔
