اسلام آباد — سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے متعارف کرائی گئی انقلابی اصلاحات کے نتیجے میں ملکی کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کو زبردست فروغ ملا ہے۔ سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی 9 بڑی کمپنیوں نے انیشل پبلک افرنگز (آئی پی اوز) کے ذریعے مختلف کاروباری شعبوں میں مجموعی طور پر 20 ارب روپے سے زائد کا ریکارڈ سرمایہ اکٹھا کیا ہے۔ شیئرز جاری کرنے والی ان کمپنیوں میں مینوفیکچرنگ، پیٹرولیم، ڈیری، اسلامی مالیات، پولٹری، رئیل اسٹیٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق، ایس ای سی پی کی نئی پالیسیوں نے کارپوریٹ اداروں کے لیے پبلک لسٹنگ اور مارکیٹ سے فنڈز حاصل کرنے کے پیچیدہ طریقہ کار کو انتہائی آسان اور شفاف بنا دیا ہے۔
کارپوریٹ مہمات کی تفصیلات کے مطابق، پاکستان اور چین کی کمپنیوں کے مشترکہ اشتراک سے قائم ‘سروس لانگ مارچ ٹائرز’ نے ملک میں گاڑیوں کے جدید ٹائر بنانے کا جدید پلانٹ لگانے کے لیے 7.8 ارب روپے کا سرمایہ اکٹھا کیا۔ پٹرولیم سیکٹر میں ‘ستارہ پیٹرولیم’ نے 4.83 ارب روپے جمع کیے، جس سے کمپنی کے آئل اسٹوریج، فیول اسٹیشنز اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی۔ دوسری جانب، ‘غنی ڈیریز’ 3.4 ارب روپے کا سرمایہ حاصل کر کے لائیو اسٹاک، جدید زرعی سہولیات اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والی پاکستان کی پہلی لسٹڈ ڈیری کمپنی بن گئی ہے۔
مالیاتی اور پولٹری سیکٹرز میں بھی سرمایہ کاروں کا ردعمل غیر معمولی رہا؛ ‘پاکستان قطر تکافل’ کے آئی پی او کو مارکیٹ کی جانب سے توقع سے 21 گنا زیادہ ڈیمانڈ موصول ہوئی، جس میں 13 ہزار سے زائد انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ ‘وحدت پولٹری’ نے مارکیٹ سے تقریباً ایک ارب روپے حاصل کیے، جنہیں پولٹری فارمز کی توسیع اور جدید پراسیسڈ انڈوں کی پیداوار کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں دو نئے ‘ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس’ (REITs) کا اضافہ کیا گیا ہے، جس نے عام عوام کے لیے جائیداد کے شعبے میں محفوظ اور قانونی سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق یہ معاشی اصلاحات ملکی معیشت کو پائیدار بنیادیں فراہم کرنے میں اہم ترین کردار ادا کر رہی ہیں۔
