کراچی — کراچی کی صوبائی انسدادِ رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) عدالت نے یلو لائن بی آر ٹی (بس ریپڈ ٹرانزٹ) منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین روز کی توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اینٹی کرپشن حکام کی تحویل میں ہی رکھا جائے، جبکہ تفتیشی افسر کو اگلی سماعت پر پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ یلو لائن منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی اور ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جھمن داس پر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے اور ٹھیکیداروں کو غیر قانونی مالی فوائد پہنچانے کے سنگین الزامات ہیں۔
تفتیشی رپورٹ کے مطابق، بی آر ٹی منصوبے کے مروجہ معاہدوں میں ٹھیکیداروں کو وقت سے پہلے ایڈوانس ادائیگیاں کرنے یا کسی بھی قسم کی پیشگی مالی معاونت فراہم کرنے کی کوئی قانونی گنجائش یا شق موجود نہیں تھی۔ اس کے باوجود، متعلقہ افسران نے مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے من پسند ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی مالی سہولت فراہم کی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ ملزمان نے مطلوبہ بینک گارنٹی حاصل کیے بغیر ٹھیکیداروں کو تقریباً 8.5 ارب روپے کی خطیر رقم جاری کی، جس کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا براہِ راست نقصان اٹھانا پڑا۔ انسدادِ رشوت ستانی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ اس منصوبے میں سنگین مالی اور طریقہ کار کی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں جن کی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
