اسلام آباد: گیارہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کے 51 سے 100 فیصد تک حصص اور انتظامی کنٹرول کے حصول میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ پر گیپکو کی نجکاری کے لیے 11 سرمایہ کاروں نے دستاویزات جمع کرائیں۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر سرمایہ کار پہلے ہی فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے عمل میں شامل ہیں۔
حکومت کے نئے قواعد کے تحت جو سرمایہ کار ایک بجلی تقسیم کار کمپنی کے لیے تکنیکی اور مالی طور پر اہل قرار پاتے ہیں، وہ دیگر دو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
گیپکو کے لیے نئے سرمایہ کاروں میں سعودی عرب کی الشریف کنٹریکٹنگ اینڈ کمرشل ڈویلپمنٹ کمپنی اور پاکستان کا اے کے ڈی سیکیورٹیز، فاسٹ کیبلز اور مغل اسٹیل گروپ شامل ہیں۔
فیسکو کی نجکاری کے عمل میں پہلے سے شامل نمایاں غیر ملکی سرمایہ کاروں میں ترکی کی ایکٹر الیکٹرک انرجی، جینوایرا انرجی اور سینگز انرجی شامل ہیں۔
پاکستانی گروپس میں اینگرو انرجی، سیفائر فائبرز، حب پاور ہولڈنگز، شیرازی انویسٹمنٹس، آرٹسٹک ملنرز اور کے الیکٹرک شامل ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے گیپکو کی نجکاری کے لیے موصول ہونے والی دلچسپی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد پاکستان کے بجلی تقسیم کے شعبے کی صلاحیت اور حکومت کے شفاف و مسابقتی نجکاری عمل پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
جمع کرائے گئے اظہارِ دلچسپی اور اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن کا اب منظور شدہ معیار کے مطابق جائزہ لیا جائے گا، جبکہ مطلوبہ شرائط پوری کرنے والے سرمایہ کار نجکاری کے اگلے مرحلے میں داخل ہوں گے۔
گیپکو ان تین بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں شامل ہے جو ڈسکوز بیچ ون کا حصہ ہیں۔ دیگر دو کمپنیاں فیسکو اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) ہیں۔ آئیسکو کے لیے اظہارِ دلچسپی جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 ستمبر 2026 ہے، جبکہ فیسکو کے لیے 7 اگست کی ڈیڈ لائن تک 12 سرمایہ کاروں نے اظہارِ دلچسپی جمع کرایا تھا۔
دوسری جانب حکومت کی نجکاری پالیسی پر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ نسبتاً بہتر کارکردگی رکھنے والی کمپنیوں کو ترجیح دی جارہی ہے جبکہ کئی خسارے میں چلنے والی بجلی تقسیم کار کمپنیاں بھاری نقصانات کا سامنا کر رہی ہیں۔
وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری کی جانب سے پارلیمان میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے ترسیلی اور تقسیمی نقصانات مالی سال 2025-26 میں بڑھ کر 82 ارب روپے ہوگئے، جبکہ ایک سال قبل یہ نقصانات 52 ارب روپے تھے۔ کیسکو کے نقصانات کی شرح بھی 38.4 فیصد سے بڑھ کر 60.2 فیصد ہوگئی۔
اس کے مقابلے میں فیسکو کے تقسیمی نقصانات تقریباً 1 ارب روپے رہے، اس کے باوجود فیسکو حکومت کی نجکاری ترجیحات میں شامل ہے۔
پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے نقصانات گزشتہ مالی سال میں 85 ارب روپے رہے، جو اس سے قبل 87 ارب روپے تھے۔ تاہم اس کے نقصانات کی شرح 37.1 فیصد سے بڑھ کر 40.7 فیصد ہوگئی۔
گیپکو کے ترسیلی اور تقسیمی نقصانات تقریباً 6 ارب روپے، یعنی 10 فیصد رہے، جبکہ آئیسکو کا نقصان 2 ارب روپے رہا، جو ایک سال قبل 5 ارب روپے تھا۔
سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے نقصانات 34 ارب روپے یا 38.5 فیصد رہے، جبکہ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کو 6 ارب روپے یا 12.4 فیصد نقصان ہوا۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 20 ارب روپے یا 25.7 فیصد جبکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نقصانات 26 ارب روپے یا 12.2 فیصد ریکارڈ کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار اس فرق کو نمایاں کرتے ہیں کہ حکومت نسبتاً بہتر کارکردگی رکھنے والی بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ کئی خسارے میں چلنے والے ادارے اب بھی بجلی کے شعبے پر بھاری مالی بوجھ ڈال رہے ہیں۔
