کراچی: 20 اگست 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پاکستان میں حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر 9.66 فیصد پر برقرار رہی، جبکہ کم آمدنی والے گھرانوں کو اشیائے خورونوش اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث نسبتاً زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق مجموعی ایس پی آئی میں ہفتہ وار بنیاد پر 0.49 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ 17,732 روپے تک خرچ کرنے والے کم ترین آمدنی والے گروپ کے لیے سالانہ مہنگائی 9.87 فیصد رہی، جبکہ دوسرے کم آمدنی والے گروپ میں مہنگائی کی شرح 10.36 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو قومی اوسط سے بھی زیادہ ہے۔
اس کے مقابلے میں زیادہ آمدنی والے گروپس میں سالانہ مہنگائی کی شرح 9.03 سے 9.33 فیصد کے درمیان رہی۔
ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ پیاز، پیٹرول اور مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ بنا۔ پیاز کی قیمت 14.17 فیصد، پیٹرول 3.77 فیصد جبکہ مرغی کی قیمت 3.35 فیصد بڑھی۔ لہسن، چنے کی دال، تیار چائے اور دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
دوسری جانب انڈوں کی قیمت 5.78 فیصد، ڈیزل 5.15 فیصد، ٹماٹر 4.99 فیصد اور آلو کی قیمت 1.17 فیصد کم ہوئی۔
17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کی گئی، جن میں سے 23 اشیا مہنگی، 10 سستی اور 18 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیاد پر مہنگائی کا دباؤ مزید نمایاں رہا۔ پیاز کی قیمت میں 132.52 فیصد، ٹماٹر میں 93.21 فیصد اور گندم کے آٹے میں 62.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ ایل پی جی کی قیمت 51.69 فیصد، ڈیزل 33.08 فیصد اور پیٹرول 27.65 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ کم ترین استعمال والے گھرانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں سالانہ بنیاد پر 22.72 فیصد اضافہ ہوا۔
کم آمدنی والے خاندانوں پر مہنگائی کا بوجھ زیادہ پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے اخراجات کا بڑا حصہ خوراک اور ایندھن پر صرف ہوتا ہے۔
کم ترین آمدنی والے گروپ کے لیے حساس قیمتوں کا اشاریہ 350.03 پوائنٹس رہا، جو ایک سال قبل 318.59 پوائنٹس تھا، جبکہ مجموعی اشاریہ 360.90 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
دریں اثنا، گروتھ سیکیورٹیز کے مطابق اگست 2026 میں قومی صارف قیمت اشاریہ (این سی پی آئی) کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 11 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 1 فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔
گروتھ سیکیورٹیز کے سربراہِ تحقیق نشید ملک کے مطابق ماہانہ اضافے کی بنیادی وجہ خوراک کی بلند قیمتیں ہیں، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مجموعی مہنگائی پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
