کراچی: محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ میں 25 مئی سے 31 مئی تک معتدل سے شدید ہیٹ ویو کا امکان ہے، جبکہ کئی اضلاع میں درجہ حرارت 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
تازہ ایڈوائزری کے مطابق 25 مئی سے بالائی فضا میں ہائی پریشر سسٹم بننے کا امکان ہے، جو 26 مئی سے مزید شدت اختیار کرے گا۔ اس کے باعث ملک کے کئی حصوں میں دن کے درجہ حرارت معمول سے کافی زیادہ رہنے کا خدشہ ہے۔ سندھ، خاص طور پر بالائی اور وسطی اضلاع، اس گرمی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سکھر، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، موہن جو دڑو، دادو، شہید بینظیر آباد، گھوٹکی، خیرپور، نوشہرو فیروز، جامشورو اور سانگھڑ میں درجہ حرارت 47 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ زیریں اور مشرقی سندھ کے اضلاع، جن میں حیدرآباد، تھرپارکر، بدین، سجاول، ٹھٹھہ، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، عمرکوٹ اور میرپورخاص شامل ہیں، بھی سخت گرمی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔
کراچی میں بھی موسم بہت گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم شہر کا درجہ حرارت اندرونِ سندھ کے مقابلے میں کم، یعنی تقریباً 35 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔ اس کے باوجود نمی کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے، خاص طور پر مزدوروں، مسافروں، بچوں، بزرگوں اور ان شہریوں کے لیے جنہیں بجلی یا صاف پانی تک مستقل رسائی حاصل نہیں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عیدالاضحیٰ کی تعطیلات بھی اسی دوران متوقع ہیں۔ اس وجہ سے بازاروں، مویشی منڈیوں، ٹرانسپورٹ روٹس اور عوامی مقامات پر رش بڑھ سکتا ہے۔ شدید گرمی میں زیادہ دیر باہر رہنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک۔ عوام کو زیادہ پانی پینے، ہلکے کپڑے پہننے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کا خاص خیال رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کسانوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ فصلوں سے متعلق کام موسم کو دیکھ کر کریں اور مویشیوں کو گرمی سے بچانے کا انتظام کریں۔
حکام کے مطابق ہیٹ ویو کے دوران بجلی کی طلب بڑھ سکتی ہے، جبکہ پانی کا استعمال بھی احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سندھ کے کئی علاقوں میں شدید گرمی صرف موسم کا مسئلہ نہیں رہتی؛ یہ صحت، پانی، بجلی اور روزمرہ زندگی کا بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سندھ کے شہریوں کے لیے پیغام واضح ہے: آنے والی گرمی معمول کی نہیں۔ احتیاط ضروری ہے، کیونکہ چند گھنٹوں کی لاپرواہی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
