چٹاگانگ — بنگلہ دیش کے علاقے ستاکنڈا میں واقع جہاز توڑنے والے ایک یارڈ میں زہریلی گیس کے دھماکے سے 8 مزدور ہلاک ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مزدور ایک پرانے آئل ٹینکر کو کاٹ رہے تھے۔
پولیس حکام کے مطابق، جہاز کے ڈھانچے میں پھنسی ہوئی گیس اچانک آگ پکڑ گئی، جس سے ہونے والا دھماکہ شدید تھا۔ مزدور جہاز کے تنگ حصے میں کام کر رہے تھے، جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
مقامی پولیس چیف نے بتایا کہ "مزدور پائپ کاٹ رہے تھے کہ اندر موجود گیس پھٹ گئی۔ کسی کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔”
ریسکیو ٹیموں نے تین گھنٹے کی جدوجہد کے بعد لاشیں نکالیں۔ پانچ زخمی مزدوروں کو چٹاگانگ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ زیادہ تر مزدور شدید جھلس چکے ہیں اور دھوئیں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کا شکار ہیں۔
بنگلہ دیش کی شپ بریکنگ انڈسٹری میں حفاظتی انتظامات کا فقدان ایک پرانا مسئلہ ہے۔ ستاکنڈا میں درجنوں ایسے یارڈ ہیں جہاں دیوہیکل جہازوں کو ہاتھ سے توڑا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یارڈ مالکان منافع کمانے کے چکر میں مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں اور جہاز کاٹنے سے پہلے گیس چیک کرنے یا وینٹیلیشن کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ماضی میں کیے گئے سخت ضوابط کے وعدے صرف کاغذوں تک محدود رہے ہیں۔ اکثر یارڈز میں نہ تو معائنہ ہوتا ہے اور نہ ہی مزدوروں کے پاس حفاظتی آلات موجود ہوتے ہیں۔
اس سانحے کے بعد مقامی مزدور تنظیموں نے یارڈ انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہیں، مگر ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ کے لیے ان تحقیقات کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔ یہ آٹھ زندگیاں ایک ایسے نظام کی نذر ہوئیں جو انسانی جان سے زیادہ لوہے کے ٹکڑوں کی قیمت سمجھتا ہے۔
