سید ذیشان کسی سرکاری محکمے کی کال یا کسی این جی او کی فنڈنگ کے منتظر نہیں رہتے۔ کراچی کی کسی مصروف شاہراہ پر اگر کوئی آوارہ کتا گاڑی کی زد میں آ جائے یا کوئی بلی گٹر میں پھنس جائے، تو ذیشان اپنی وین لے کر نکل پڑتے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے ذیشان شہر کے ان جانوروں کے لیے واحد غیر سرکاری ریسکیو ورکر بنے ہوئے ہیں جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ان کی وین ایک موبائل کلینک اور ایمبولینس کا کام دیتی ہے، جس کے ذریعے وہ کراچی کے ہجوم اور ٹریفک کو چیرتے ہوئے ان جانوروں تک پہنچتے ہیں جو بروقت طبی امداد نہ ملنے پر سڑک پر ہی دم توڑ دیتے۔
دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں بے زبان جانوروں کی زندگی انتہائی کٹھن ہے۔ انہیں سڑک حادثات سے لے کر زہر خورانی اور شہر کے پھیلتے ہوئے کنکریٹ کے جنگل تک ہر قدم پر خطرات کا سامنا ہے۔ شہری انتظامیہ کی ترجیحات میں جانوروں کے حقوق کا ذکر نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث ذیشان کی یہ انفرادی کوشش ایک ایسا خلا پر کر رہی ہے جسے حکام گزشتہ دہائیوں میں پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ذیشان بتاتے ہیں، "لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ جب انسان خود مصیبت میں ہیں تو تم کتے بلیوں پر وقت ضائع کیوں کر رہے ہو؟ لیکن ان جانوروں کی کوئی آواز نہیں۔ یہ خود فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کہاں رہنا ہے یا کیسے مرنا ہے۔ اگر میں انہیں نہیں اٹھاؤں گا، تو اور کون اٹھائے گا؟”
ان کا کام صرف جانوروں کو اٹھانا نہیں بلکہ ابتدائی طبی امداد دینا بھی ہے۔ وین کے اندر کرٹس، بنیادی ادویات اور خوراک کا انتظام موجود ہے۔ وہ خود ڈاکٹر تو نہیں، لیکن تجربے کی مدد سے انہوں نے زخموں کو صاف کرنا، پٹی باندھنا اور جانوروں کو ان چند نجی کلینکس تک پہنچانا سیکھ لیا ہے جو آوارہ جانوروں کا رعایت پر علاج کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
اس تمام کام کا مالی بوجھ ذیشان خود اٹھاتے ہیں۔ ایندھن، ادویات اور وین کی دیکھ بھال کا خرچ ان کی اپنی محدود آمدنی اور چند ہمدرد شہریوں کے عطیات سے پورا ہوتا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی باقاعدہ دفتر ہے اور نہ ہی رضاکاروں کی فوج۔ وہ خود ہی ڈسپیچر ہیں، خود ہی ڈرائیور اور خود ہی تیماردار۔
شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی آبادی پر اکثر تنقید کی جاتی ہے اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں مارنے (کلنگ) کے ظالمانہ اور غیر مؤثر طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ذیشان اس کے برعکس ویکسینیشن اور نس بندی کے ذریعے آبادی کو کنٹرول کرنے کے حامی ہیں۔ وہ اپنی روزانہ کی ان کوششوں کو شہر کے بے زبان جانوروں کے ساتھ رویہ بدلنے کی ایک چھوٹی لیکن ضروری شروعات سمجھتے ہیں۔
گلشن اقبال اور کلفٹن جیسے علاقوں میں ان کی وین ایک جانا پہچانا نام بن چکی ہے۔ دکاندار اور رہائشی اب جانتے ہیں کہ کسی جانور کو تکلیف میں دیکھ کر کسے فون کرنا ہے۔ وہ کسی اعزاز یا سرکاری سرپرستی کے متلاشی نہیں۔
ابھی ایک زخمی کتے کی پٹی باندھ کر اسے سائے میں منتقل کرنے کے بعد، ذیشان نے دوبارہ اپنا فون اٹھایا۔ شہر کے دوسرے کونے سے ایک اور جانور کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔ ٹریفک کا رش ہے، حبس بڑھ رہا ہے، مگر ذیشان اپنی وین کا رخ اس جانب موڑ چکے ہیں۔ اس شہر میں، جہاں ہر کوئی اپنی منزل کی طرف بھاگ رہا ہے، وہ واحد شخص ہیں جو درد کی پکار پر رک جاتے ہیں۔
