خلدہ، لبنان — علی منصور اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ نقشوں کو نہیں دیکھتے۔ وہ ان زیتون کے درختوں کو دیکھتے ہیں جو ان کے دادا نے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ان پہاڑیوں میں لگائے تھے۔ جیسے جیسے اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے علاقوں کو ممکنہ زمینی کارروائیوں کے لیے ’پائلٹ زون‘ قرار دے رہی ہے، منصور جیسے رہائشی وہیں رکنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نقل مکانی ایک ایسا جال ہے جس سے نکلنا ناممکن ہوگا۔
ان علاقوں کو ’پائلٹ زون‘ قرار دیے جانے کے بعد پرسکون زرعی دیہات اب فرنٹ لائن کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے لیے یہ علاقے حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے ایک تزویراتی ضرورت ہیں، لیکن یہاں بسنے والوں کے لیے یہ بے دخلی کا نوٹس ہے۔
اپنے باغ کے کنارے کھڑے منصور نے کہا، ”وہ پرچے گراتے ہیں، پیغامات بھیجتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہم بھاگ جائیں۔ اگر ہم چلے گئے تو ہم اپنی تاریخ کی دستاویز کھو دیں گے۔ یہ زمین ہماری رہے گی، چاہے ہم اس پر کھڑے رہیں یا اس کے نیچے دفن ہو جائیں۔“
یہ معاملہ محض جائیداد کے حقوق تک محدود نہیں ہے۔ ماضی کی جنگوں میں، ’بفر زون‘ کی حکمت عملی کے نتیجے میں دیہات اس طرح تباہ ہوئے کہ برسوں تک وہاں رہائش ممکن نہ رہی۔ سن 2006 میں نقل مکانی کرنے والے بہت سے خاندان جب واپس لوٹے تو انہیں اپنے گھر ملبے کے ڈھیر اور کھیت بارودی سرنگوں سے بھرے ہوئے ملے۔ یہی خوف اب لوگوں کو انخلا سے روک رہا ہے۔
مقامی امدادی تنظیموں کے مطابق، امیر طبقہ تو پہلے ہی ان علاقوں سے نکل چکا ہے، لیکن غریب خاندان—جو اپنی فصلوں پر گزارا کرتے ہیں—کے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ تہہ خانوں میں چھپے ہوئے ہیں اور شمسی توانائی سے چلنے والے جنریٹرز اور ذخیرہ شدہ آٹے پر انحصار کر رہے ہیں۔ ایندھن کی قلت کے باعث نقل و حمل ایک جوا بن چکا ہے؛ سڑکوں کو اکثر ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے انخلا کے راستے موت کے جال میں بدل چکے ہیں۔
سرحدی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے فوجی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’پائلٹ زون‘ کی اصطلاح ایک نفسیاتی حربہ بھی ہے۔ اس نام کے ساتھ، فوج اپنی کارروائیوں کا قانونی دائرہ کار بدل لیتی ہے، جس سے ان علاقوں میں ہونے والی کسی بھی حرکت کو مشکوک قرار دے کر نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ ڈرون آپریٹرز کے لیے ضوابط کو آسان بناتا ہے، مگر وہاں موجود شہریوں کی موجودگی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
ایک علاقائی سیکیورٹی کنسلٹنٹ، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہتے ہیں، ”یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں شہری سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ فوج ایک ایسا علاقہ چاہتی ہے جہاں کوئی نہ ہو، جبکہ رہائشی وہ انسانی عنصر ہیں جو ان کے مقاصد میں پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں۔“
عالمی برادری کے لیے یہ صورتحال ایک سفارتی بحران ہے۔ امدادی تنظیمیں انسانی راہداریوں کے لیے مذاکرات کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ’پائلٹ زون‘ کی حیثیت ایک قانونی ابہام پیدا کر رہی ہے۔ کوئی بھی فریق محفوظ راستے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ایک سکڑتے ہوئے دائرے میں پھنس چکے ہیں۔
وادی میں سورج غروب ہو رہا ہے اور فضا میں نچلی پرواز کرنے والے طیاروں کی گونج مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ منصور اپنا سامان نہیں باندھ رہے۔ وہ اپنے باغ کی باڑ کا معائنہ کر رہے ہیں۔ وہ خطرات سے واقف ہیں، لیکن ان کے لیے متبادل ایک خیمہ بستی میں جلاوطنی کی زندگی ہے—ایک ایسی حقیقت جسے وہ تب تک قبول کرنے کو تیار نہیں جب تک ان کے قدم اپنی مٹی پر ہیں۔
