پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا مریضوں پر کی جانے والی ایک نئی طبی تحقیق نے علاج کے روایتی تصورات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق، ریڈی ایشن تھراپی کروانے والے مریضوں کی زندگی کے معیار میں توقع سے کہیں زیادہ بہتری دیکھی گئی ہے، جو اس تاثر کو غلط ثابت کرتی ہے کہ کینسر کا علاج مریض کو مکمل طور پر نڈھال کر دیتا ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ ریڈی ایشن کے سیشنز جسمانی توانائی کو ختم کر دیتے ہیں، جس سے مریض کی روزمرہ کی مصروفیات بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ تاہم، اس تحقیق میں شامل مریضوں نے علاج کے دوران اپنی جسمانی نقل و حرکت اور ذہنی چوکسی کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ بعض کیسز میں اس میں بہتری بھی دیکھی گئی۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر ایلینا روسی کا کہنا ہے کہ جدید ریڈی ایشن ٹیکنالوجی اب اتنی درست ہو چکی ہے کہ وہ کینسر کے خلیوں کو نشانہ بناتے ہوئے ارد گرد کے صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچاتی ہے۔ "ہم نے دیکھا کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد علاج کے دوران بھی ہلکی ورزش اور سماجی میل جول میں حصہ لینے کے قابل رہی،” انہوں نے مزید کہا۔
اس بہتری کے پیچھے ایک اہم نفسیاتی پہلو بھی کارفرما ہے۔ جب مریض یہ دیکھتے ہیں کہ علاج کے دوران ٹیومر کا سائز کم ہو رہا ہے، تو ان کی ذہنی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ یہ اطمینان ان کی بے چینی کو کم کرتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ان کی بھوک اور نیند کے معیار پر پڑتا ہے۔
البتہ، طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نتائج کا دارومدار مریض کی مجموعی صحت اور بیماری کے مرحلے پر بھی ہوتا ہے۔ ہر مریض کی جسمانی ساخت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ریڈی ایشن کے اثرات بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب کینسر کے علاج کا مقصد صرف زندگی کے دن بڑھانا نہیں، بلکہ ان دنوں کو ایک فعال اور خود مختار زندگی کے طور پر گزارنے کے قابل بنانا ہے۔ جیسے جیسے ریڈی ایشن کی تکنیک جدید ہوتی جا رہی ہے، طبی ماہرین کو امید ہے کہ مریض علاج کے دوران بھی اپنی روزمرہ کی زندگی سے کٹ کر نہیں رہیں گے۔
