کیپ کیناویرل، فلوریڈا — ناسا کی نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی سکوپ نے جمعرات کو فلوریڈا کے ساحل سے کامیابی کے ساتھ پرواز بھری۔ یہ مشن کائنات کے ان تاریک پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو اب تک انسانی پہنچ سے دور تھے۔ صبح 10 بج کر 14 منٹ پر راکٹ نے اپنی منزل کی جانب سفر شروع کیا، جس کے ساتھ ہی ایک ایسی دوربین خلا میں پہنچ گئی جو ہبل ٹیلی سکوپ کے مقابلے میں 100 گنا زیادہ وسیع منظر کشی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ دوربین روایتی مشاہدے کے بجائے کائنات کے وسیع تر نقشے تیار کرنے پر مرکوز ہے۔ جہاں جیمز ویب ٹیلی سکوپ کائنات کے مخصوص حصوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتی ہے، وہیں رومن ٹیلی سکوپ ایک ’وائیڈ اینگل‘ کیمرے کی طرح کام کرے گی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ ’ڈارک انرجی‘ اور ’ڈارک میٹر‘ نے اربوں سالوں میں کائنات کے پھیلاؤ کو کیسے تشکیل دیا ہے۔
مشن کی سینئر سائنسی ماہر ڈاکٹر جولی میک اینری نے لانچ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم اب صرف ستاروں کو نہیں دیکھ رہے، ہم کائنات کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رومن ہمیں وہ سیاق و سباق فراہم کرے گی جو اب تک ہماری تحقیق میں غائب تھا۔”
رومن ٹیلی سکوپ کا 2.4 میٹر کا آئینہ ہبل کے آئینے کے برابر ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود ٹیکنالوجی جدید ترین ہے۔ یہ دوربین اتنی تیزی سے آسمان کو اسکین کر سکتی ہے کہ ہبل کو وہی کام کرنے میں صدیاں لگ جائیں۔ ماہرین کو توقع ہے کہ اس مشن کے ذریعے اربوں کہکشاؤں کا مشاہدہ کیا جائے گا اور ایسے ہزاروں نئے سیارے دریافت ہوں گے جو اب تک ہماری نظروں سے اوجھل تھے۔
تاہم، مشن کو ابھی ایک اہم مرحلے سے گزرنا ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں یہ دوربین زمین سے دس لاکھ میل دور ’لیگرینج پوائنٹ 2‘ (L2) تک پہنچے گی، جہاں اسے خود کو مستحکم کرنا ہوگا۔ اس کے بعد چھ ماہ تک اس کے آلات کی جانچ پڑتال اور کیلیبریشن کا عمل جاری رہے گا۔
سائنسی برادری کے لیے یہ مشن ایک بڑی کامیابی کی امید ہے۔ ڈارک انرجی کائنات کا وہ حصہ ہے جو 70 فیصد سے زائد ہونے کے باوجود مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔ رومن ٹیلی سکوپ نہ صرف اس کی تصاویر لے گی بلکہ وہ اعداد و شمار بھی فراہم کرے گی جو کائنات کے پھیلاؤ کے بارے میں موجود نظریات کی تصدیق یا تردید کر سکیں گے۔
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو خلا سے پہلا ڈیٹا اگلے سال کے آخر تک زمین پر پہنچنا شروع ہو جائے گا۔ اس وقت تک گوڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر میں موجود کنٹرول ٹیم اس مشین کے سفر پر نظر رکھے ہوئے ہے، جو انسانیت کی تاریخ میں کائنات کو دیکھنے والی سب سے طاقتور آنکھ ثابت ہو سکتی ہے۔
