تبت کے دور افتادہ علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 546 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، حادثہ اس وقت پیش آیا جب پہاڑی تودہ رہائشی بستی پر آ گرا، جس نے متعدد عمارتوں اور انفراسٹرکچر کو ملبے کے نیچے دبا دیا۔
متاثرہ علاقہ انتہائی بلندی پر واقع ہے جہاں مواصلاتی نظام کی خرابی اور مشکل جغرافیائی صورتحال کے باعث امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق، لاپتہ افراد کی اتنی بڑی تعداد ظاہر کرتی ہے کہ یہ حادثہ کسی گنجان آباد علاقے یا بڑے تعمیراتی کیمپ کے قریب پیش آیا ہے۔
مقامی محکمہ موسمیات نے انکشاف کیا کہ حادثے سے چند روز قبل علاقے میں ریکارڈ توڑ بارشیں ہوئی تھیں۔ ماہرینِ ارضیات طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ ہمالیہ کے خطے میں تیز رفتار تعمیراتی کام اور بدلتے ہوئے موسمی حالات لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو کئی گنا بڑھا چکے ہیں۔
ایک مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ افسر نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن مٹی کا بھاری ڈھیر اور پہاڑی ڈھلوان کا عدم استحکام ہماری راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔” انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا اس علاقے کو پہلے سے ‘خطرناک’ قرار دیا گیا تھا یا نہیں۔
صوبائی حکومت نے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور امدادی سامان کے ساتھ ساتھ سراغ رساں کتوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ تاہم، سیکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ برقرار ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں تقریباً تین کلومیٹر کے رقبے پر تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ پہاڑوں کی اوٹ میں بسنے والے ان خاندانوں کے لیے، جو اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امید کی کرن مدہم پڑتی جا رہی ہے۔
